ایران کا بڑا قدم، پارلیمانی بل کے ذریعے جوہری عدم پھیلاو کا معاہدہ چھوڑنے کی تیاری کر لی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران کا بڑا قدم، پارلیمانی بل کے ذریعے جوہری عدم پھیلاو کا معاہدہ چھوڑنے کی تیاری کر لی WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
تہران (سب نیوز)ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ ایک ایسا بل تیار کر رہی ہے جس کے تحت ایران ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کی روک تھام کے معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ترجمان نے تاہم واضح کیا کہ ایران کا مہلک ہتھیاروں کی تیاری کا کوئی ارادہ نہیں، اور وہ اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں کی مخالفت پر قائم ہے۔
یاد رہے کہ این پی ٹی ایک 190 رکن ممالک پر مشتمل عالمی معاہدہ ہے جس پر 1968 میں دستخط کیے گئے اور یہ 1970 میں نافذ ہوا۔ معاہدے کے تحت امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ کسی بھی ملک کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں، تاہم پرامن نیوکلیئر پروگرام کے تحت توانائی کی پیداوار کی اجازت دی جاتی ہے، جس کی نگرانی اقوام متحدہ کرتی ہے۔ایران نے اس معاہدے کے تحت کئی برسوں تک ذمہ داریاں نبھائیں، لیکن 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور سخت پابندیاں لگانے کے بعد ایران نے مرحلہ وار اپنی ذمہ داریاں ترک کرنا شروع کیں۔ یہ پابندیاں ایرانی معیشت پر سخت اثر ڈال چکی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراقتدار اللہ کی امانت، ایک ایک پائی عوام کی ہے،خدمت کا سفررکے گا نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اقتدار اللہ کی امانت، ایک ایک پائی عوام کی ہے،خدمت کا سفررکے گا نہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز این جی اوز کیلئے ٹیکس کی چھوٹ ختم، ایف بی آر مانیٹرنگ کرے گا، چیئرمین ایف بی آر کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کی سربراہ مقرر ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں ،بحران کا کوئی خطرہ نہیں ،نگران کمیٹی بجٹ کے فوری بعد بلدیاتی انتخابات کرائیں گے، عظمی بخاری وفاقی کابینہ نے وفاقی سرکاری ملازمین کیلئے نئی اعزازیہ پالیسی کی منظوری دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔