بجٹ میں ووٹ نہ دینے کےلیے پی ٹی آئی کا پیپلزپارٹی سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بجٹ میں ووٹ نہ دینے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے رابطہ کر لیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور بجٹ کے بائیکاٹ میں ساتھ دینے کی درخواست کی۔
اس ملاقات میں اسد قیصر نے راجہ پرویز اشرف سے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بجٹ بائیکاٹ سے متعلق بیانات سنے ہیں، پیپلز پارٹی سنجیدہ ہے تو بجٹ میں ووٹنگ بائیکاٹ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دے۔
راجہ پرویز اشرف نے پی ٹی آئی کی پیشکش پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو آج پارلیمنٹ آرہے ہیں ان سے مشاورت کروں گا۔
واضح رہے کہ 12 جون کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور احمد نے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور احمد نے بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ صرف امیروں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے، جس میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا۔ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ہر طبقے کا بجٹ بڑھا دیا گیا ہے۔
چوہدری منظور نے مزید کہا کہ تمام مالی مشکلات کا بوجھ صرف غریبوں پر ڈال دیا گیا ہے، اس ناانصافی کے خلاف احتجاج کے لیے ملک بھر کی ٹریڈ یونینز سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پی ٹی آئی کہا کہ
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔