اسرائیل-ایران تنازعہ پانچویں دن میں داخل، وسیع جنگ کے خدشات
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسرائیل کا ایران کے نئے تعینات کردہ اعلیٰ فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ اسرائیل کا ایران کے نئے تعینات کردہ اعلیٰ فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ
اسرائیلی فوج نے ایران کے ’’وار ٹائم چیف آف اسٹاف اور اعلیٰ ترین فوجی کمانڈر‘‘ میجر جنرل علی شادمانی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق جنرل شادمانی پیر اور منگل کی درمیانی شب وسطی تہران میں کیے گئے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ’’درست انٹیلیجنس‘‘ کی بنیاد پر کی گئی۔ ایران کی جانب سے فوری طور پر اس ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔شادمانی نے جنرل غلام علی راشد کے جانشین کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔
(جاری ہے)
جنرل راشد جمعے کے روز اسرائیل کے ایران پر اب تک جاری حملوں کے آغاز میں ہلاک ہو گئے تھے۔ دونوں کمانڈر ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹرز میں تعینات تھے، جو پاسداران انقلاب کے تحت جنرل اسٹاف کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور مختلف فوجی یونٹوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا نگران ہے۔
اب تک تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 20 ایرانی جرنیل مارے جا چکے ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق بعض کمانڈر اپنے گھروں میں نشانہ بنے، جب کہ دارالحکومت کے گنجان آباد علاقوں میں ان حملوں سے درجنوں عام شہری بھی مارے جا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایران کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔