اسرائیل پرایسا حملہ کریں گے جو اسے پچھتانے پر مجبور کر دے گا، ایرانی صدر
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایران(نیوز ڈیسک)ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اپنے نئے بیان میں کہا ہم دشمن کی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دیں گے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے اپنے بیان میں کہااسرائیل پر ایسا حملہ کریں گے جو اسےپچھتانے پر مجبور کردے گا،اسرائیلی حملوں کا اسی کی زبان میں جواب دیں گے،ہم جنگ کو وسعت دینا نہیں چاہتے،ہرکمانڈر کےہاتھ سے گرنے والا پرچم نیا کمانڈر اٹھائے گا اورمیدانِ جنگ میں اترے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا آج ترک صدر سے فون پر بات ہوئی،میں نے واضح کیا جنگ ہم نے شروع نہیں کی۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں کہا اسرائیل کےخلاف جوابی کارروائیوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا ہے،اسرائیلی جارحیت کے خلاف سخت حملے جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
اسرائیل کا ایران پر تازہ حملہ، دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ایرانی صدر
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔