یورپ سے اصولوں پر مبنی عالمی سیاست کی توقع ہے، سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر خان
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
بلاول بھٹو کی سربراہی میں پاکستان کا سفارتی وفد فرانس کے شہر اسٹراسبورگ پہنچ گیا ہے، جہاں وفد میں شامل سابق وزیر خارجہ خرم دستگیر خان کے مطابق وفد نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی مؤقف اجاگر کرنے کی غرض سے مختلف رہنماؤں سے مثبت ملاقاتیں کی ہیں۔
اسٹراسبورگ سے اپنے ایک ویڈیو بیان میں انجینیئر خرم دستگیر خان نے بتایا کہ پاکستانی سفارتی وفد کی یورپی پارلیمنٹ کے نائب صدر سمیت مختلف رہنماؤں سے’اصولوں پر مبنی عالمی نظام‘ کے قیام کے حوالے سے مثبت ملاقاتیں ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
خرم دستگیر کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کے مختلف رہنماؤں سے اصولوں پر مبنی عالمی نظام قائم کرنے کے حوالے سے، تاریخ سے سبق سیکھنے کے حوالے سے، خطے میں جنگ روکنے کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی اور اس کے بعد گروپ آف دی یورپین پیپلز پارٹی کے خارجہ امور کے ایڈوائزر مائیکل گیلر سے بھی ایک طویل اور تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اپنے ویڈیو بیان میں خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان اور بھارت کے مابین تنازع نے سر اٹھایا اور حال ہی میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جان لیوا کشیدگی کے تناظر میں یورپ سے ہماری توقع ہے کہ وہ دنیا میں کچھ قوانین اور اصولوں کی بنیاد پر بین الاقوامی سیاست کی بنیاد کو مضبوط کریں گے۔
مزید پڑھیں:
’۔۔اور یہ روکیں گے کہ ہر ملک اپنی مرضی کے مطابق اپنے دشمن پر بغیر کسی وجہ اور ثبوت کے چڑھ دوڑے، اس پر بڑی گفتگو ہوئی اور ہم نے اس ضمن میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے پر بھی اپنا مؤقف پیش کیا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹراسبورگ انجینیئر خرم دستگیر خان پاکستان فرانس یورپی پارلیمنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انجینیئر خرم دستگیر خان پاکستان یورپی پارلیمنٹ خرم دستگیر خان کے حوالے سے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز