اسرائیل کا پاسداران انقلاب کے ایک اور اعلیٰ کمانڈر کو شہید کرنے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
مقبوضہ بیت المقدس :اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریہ ایران کے سب سے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو شہید کر دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں نے تہران کے قلب میں واقع ایک فعال کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایران کے چیف آف وار سٹاف علی شادمانی شہید ہو گئے، علی شادمانی ایرانی مسلح افواج کے سب سے سینئر آپریشنل کمانڈر اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی مشیر سمجھے جاتے تھے۔
علی شادمانی نہ صرف جنگی کمانڈر تھے بلکہ ایمرجنسی کمانڈ سینٹر کے بھی سربراہ تھے جو ایرانی افواج کے آپریشنز اور حملے کی حکمت عملی کی منظوری دیتا ہے۔
انہوں نے ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب دونوں کی جنگی حکمت عملی کی نگرانی کی، اس سے قبل وہ ایرانی جنرل سٹاف کے آپریشنز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اور خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی کمانڈر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔
علی شادمانی کو حالیہ جنگی مہم کے آغاز پر ایران کی مسلح افواج کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، ان کے پیشرو عالم علی رشید پہلے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے، ان کی شہادت ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے، جو حالیہ مہینوں میں ہائی پروفائل ہلاکتوں کی ایک طویل لڑی کا حصہ بن چکی ہے اور جس سے ایران کی فوجی کمانڈ کی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علی شادمانی
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔