کابل کی نیت واضح، افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان فوراً جوابی کارروائی کرے گا،وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر) وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نےکہا کہ استنبول مذاکرات کے معاملے کل شام تک مکمل ہوئے اور ثالثوں کو بھی کابل کی اصل نیت واضح ہو گئی ہے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کابل کی نیت میں فتور اور تضادات نمایاں ہیں اور اس صورتحال پر اب دعا کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔
وزیر دفاع نے تشویش ظاہر کی کہ طالبان افغانستان کو ماضی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور کہا کہ طالبان ایک روایتی ریاست کی تعریف پر پورا نہیں اترتے؛ ان کے بقول طالبان ریاستی تشخص کو سمجھنے یا اپنانے کے قابل نہیں ہیں اور وہ بنیادی طور پر قتل و غارت اور مالی مفاد کے لیے حرکت میں ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ کابل حکومت میں ایسا مؤثر عنصر موجود نہیں جو ریاستی ذمہ داریوں کو واضح طور پر نبھا سکے۔
افغان سرزمین کے استعمال سے متعلق وزيرِ دفاع نے واضح انتباہ جاری کیا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوئی تو اس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان کارروائی کرنے سے گریز نہیں کرے گا اور اگر ضرورت پڑی تو افغانستان کی اندرونی حدود میں بھی مؤثر جواب دیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر کابل مزاحمت کا راستہ اپناتا ہے تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں وزیرِ دفاع نے کہا کہ پاکستان کی شرط واضح ہے: افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے اور اس پر پاکستان اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رجیم کو دہشت گرد عناصر، بالخصوص ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی پشت پناہی فوراً بند کر دینی چاہیے ورنہ دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ خواجہ آصف نے ثالثوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ثالث ہمارے مفادات کا خیال رکھیں گے مگر عملی یقین دہانی ناگزیر ہے۔
خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا حکومت کی سیاسی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ صوبائی حکومت آہستہ آہستہ تنہائی کا شکار ہو رہی ہے۔ انہوں نے سابق فاٹا کے لوگوں کے صادقانہ رویے کو سراہا اور کہا کہ وفاقی حکومت مخلص ہے جبکہ بعض سیاسی حلقے محض سیاسی مفادات کا تذکرہ کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ملک نیازی یا ذاتی مفادات کے تحت نہیں چلتا اور ریاست اس مٹی کے مفادات کا تحفظ کرے گی۔
فلسطین کے حوالے سے سوال پر خواجہ آصف نے کہا کہ اگر بین الاقوامی سطح پر امن برقرار رکھنے کے لیے کہیں افواج بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو یہ پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا، کیونکہ دنیا میں امن کے قیام میں پاکستان کی نمایاں پوزیشن رہی ہے۔
وزیرِ دفاع نے اعتراف کیا کہ چالیس برس تک افغانستان کی میزبانی کے دوران بعض غلط فیصلے بھی کیے گئے جن کے منفی معاشی اور سکیورٹی اثرات مرتب ہوئے؛ انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں پشت پناہی کے نتیجے میں بعض عناصر بڑے ٹھیکیدار بن گئے، اور یہ ہمارا بھی نقصان رہا۔ تاہم ان کا مؤقف تھا کہ قابلِ عمل یقین دہانی نہ ملنے کی صورت میں پاکستان کو اپنے دفاع کے آپشنز کو استعمال کرنا آتا ہے اور وہ اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے کہا کہ انہوں نے دفاع نے کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔