ایران کا اسرائیل پرنیا میزائل حملہ، ایک اسرائیلی ہلاک،20 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
ایران نے اسرائیل پر نیا میزائل حملہ کیا ہےجس کے نتیجے میں ایک اسرائیلی ہلاک،20 زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی فوج کےمطابق ایران کی جانب سےتل ابیب میں نیاحملہ کیا ہے،جس کے نتیجےمیں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں،میڈیا رپورٹس کےمطابق ایران کے نئے حملے سے بھاری نقصان ہوا ہے، کئی افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں،اسرائیلی حکام نےصیہونی شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی ہے،ایرانی کی جانب سے اب تک کے حملوں 25 اسرائیلی ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
پاسداران انقلاب کاکہنا ہےکہ اسرائیل پرڈرونز اور میزائل سےحملہ کیا ہے،یہ ایران کا اسرائیل پر نواں حملہ ہے، وعدہ صادق تھری کے ذریعے بےگناہوں کا بدلہ لیاجارہا ہے۔
پاسداران انقلاب کےسربراہ کے مشیر بریگیڈیرجنرل احمد واحدی نےاسرائیل کو خبردار کیا ہےکہ تہران پوری طاقت کے ساتھ طویل جنگ لڑنے کےلیےتیار ہے،ضرورت پڑی تو بہت سا جدید اسلحہ جنگ میں استعمال کیا جائے گا۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سرکاری نشریاتی ادارے پراسرائیلی حملے میں 2 خواتین میڈیا کارکن شہید ہوگئیں،گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے تہران پر تازہ حملوں میں سرکاری ٹی وی چینل کی عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب چین میں اسرائیلی سفارتخانہ نےخبردارکیا ہےکہ چینی شہری زمینی بارڈر کراسنگ کے ذریعے اسرائیل سے جلد نکل جائیں،چین کا کہنا ہےکہ سیکیورٹی صورتحال تشویشناک ہے،چینی شہری اردن کی طرف نکل جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیا ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔