UrduPoint:
2026-06-03@07:57:20 GMT

ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی

پیرس ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔17 جون 2025ء ) فرانس نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق فرانسیسی صدر نے ایران اسرائیل کشیدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ ایرانی حکومت کو گرانے کی کوشش بڑی غلطی ہوگی، ماضی میں بھی ایسی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کو جوہری مذاکرات اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی پیشکش کی ہے اور اب دنیا ایران کے جواب کی منتظر ہے۔

اگر ایران نے امریکا کی پیشکش کو قبول کرلیا تو مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ ایران غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈال دے،ہمارا صبر جواب دے رہا ہے،ہمیں معلوم ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کہاں چھپے ہیں۔

(جاری ہے)

ایکس پر اپنے ٹویٹ میں امریکی صدر نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کے پاس اچھے فضائی ٹریکرز اور دیگر دفاعی سازوسامان موجودہ تھا، ایران کے پاس یہ سامان بڑی مقدار میں تھا، ایران کا سازوسامان امریکی دفاعی سازوسامان کا مقابلہ نہیں کرسکتا،کوئی بھی امریکا سے اچھا دفاعی سازوسامان نہیں بنا سکتا۔

ہمیں معلوم ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر کہاں چھپے ہوئے ہیں، ہم فی الحال ایرانی سپریم لیڈر کو نہیں مارنے جارہے ، ایرانی سپریم لیڈر آسان ہدف ہیں،ہم ایرانی سپریم لیڈر کو قتل کرنے نہیں جارہے ، ہمارا صبر جواب دے رہا ہے، ایران غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈال دے، ہم نہیں چاہتے کہ میزائل شہریوں یا امریکی فوجیوں کو نشانہ بنائیں۔اسی طرح امریکی حکام نے برطانوی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں مزید لڑاکا طیارے بھیج رہی ہے، امریکی فوج مشرق وسطیٰ لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کررہی ہے۔

دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ہر سلطنت کو زوال کا سامنا کرنا پڑا، دنیا امریکہ کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے دنیا کا احترام کھو دیا تو وہی انجام دیکھے گا جو ماضی کی زوال پذیر سلطنتوں کا ہوا کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر طاقتور سلطنت نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا مگر ہر ایک کا سورج آخرکار غروب ہوا، آج سے 100 سال پہلے برطانوی سلطنت عالمی تجارت پر چھائی ہوئی تھی، لوگ سمجھتے تھے اس سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا لیکن وہ وقت بھی آیا جب برطانیہ عالمی منظرنامے سے پیچھے ہٹ گیا۔

شی جن پنگ نے مزید کہا کہ 200 سال قبل فرانس یورپ کے افق پر غالب تھا اور ایک وقت تھا جب ہسپانوی تخت و تاج منیلا سے لے کر میکسیکو تک حکومت کر رہا تھا، ہسپانوی بادشاہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کی عظمت ہمیشہ قائم رہے گی لیکن تاریخ نے ثابت کیا کہ ہر سلطنت کو زوال کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ عالمی سیاست و معیشت میں ہمیشہ کے لیے ناگزیر ہے تو وہ ماضی کی ان سلطنتوں سے سبق لے، وقت بدلتا ہے اور قومیں بدلتی ہیں جو قوم دنیا کا احترام نہیں کرتی وہ خود اپنے زوال کی راہ ہموار کرتی ہے۔

علاوہ ازیں چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایرانی دارالحکومت تہران سے شہریوں کو فوری انخلاء کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ تنازعے کو ہوا دینے کی بجائے کشیدگی میں کمی کے لیے کام کرے، آگ پر تیل ڈالنے، دھمکیاں دینے اور دباؤ بڑھانے سے صورتحال میں بہتری نہیں آئے گی بلکہ اس سے خطے میں تنازعہ مزید گہرا اور وسیع ہو جائے گا، اس لیے عالمی طاقتیں ایران اسرائیل کشیدگی مزید بڑھانے کی بجائے اسے ختم کرنے میں کردار ادا کریں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایرانی سپریم لیڈر ہے کہ ایران ایران کے کہا کہ

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو