نصاب تعلیم میں متنازع نکات کی اصلاح ناگزیر ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد میں علامہ سید افتخار حسین نقوی اور علامہ عارف حسین واحدی سے ملاقات کے موقع پر علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ یکساں قومی نصاب تعلیم میں موجود متنازع نکات کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ ملت جعفریہ کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ نصاب تعلیم سے کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ متنازع نکات کی اصلاح ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بزرگ عالم دین علامہ سید افتخار حسین نقوی اور شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی سے ملاقات کے موقع پر کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں امام خمینی ٹرسٹ کے چیئرمین، بزرگ عالم دین اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ سید افتخار حسین نقوی سے ملاقات کی۔ بعد ازاں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی سے بھی خصوصی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں میں علامہ مقصود علی ڈومکی نے انہیں 18 جون 2025 کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ نصاب تعلیم سے کروڑوں نوجوانوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ یکساں قومی نصاب تعلیم میں موجود متنازع نکات کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ ملت جعفریہ کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محرم الحرام کے دوران پنجاب بھر میں مجالس اور جلوس ہائے عزاداری کے خلاف عزاداران امام حسین علیہ السلام پر بلاجواز سینکڑوں مقدمات قائم کئے جاتے ہیں، جو نہ صرف آئین پاکستان میں دی گئی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے، بلکہ بنیادی شہری حقوق کی بھی سنگین پامالی ہے۔ اس موقع پر علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ نصاب تعلیم کے موضوع پر تسلسل کے ساتھ مستقل، منظم اور تحقیقی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں باہمی مشاورت اور عملی اقدامات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ جبکہ علامہ عارف حسین واحدی نے نصاب تعلیم کانفرنس کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت اہم اور بروقت اقدام ہے۔ ایام عزاء اور محرم کے دوران عزاداروں کے خلاف بلاجواز مقدمات کا اندراج افسوسناک ہے۔ عزاداریٔ امام حسین علیہ السلام کے تحفظ کے لئے ہم سب کو مل کر مشترکہ اور متفقہ کوششیں کرنی ہوں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ عارف حسین واحدی متنازع نکات کی علامہ مقصود نصاب تعلیم ڈومکی نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔