اسرائیل کا ایران پر حملہ عالم اسلام کے منہ پر طمانچہ ہے،اتحا د ناگزیر ہے
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) اسرائیل کا ایران پر حملہ عالم اسلام کے منہ پر طمانچہ ہے، اتحاد ناگزیر ہے‘ اسرائیل کا ایران حملہ امریکا، فرانس، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک کی مشترکہ کارروائی ہے،ایران کے بعد اگلا نمبر پاکستان، ترکیہ کا ہے‘ استعماری طاقتیں وسائل پر قبضے کے لیے مختلف سازشوں سے امت مسلمہ کے اتحاد کو سبوتاژ کرتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر صابر ابو مریم سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان،سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ’’کیا ایران پر اسرائیل حملے کو روکنے کے لیے عالم اسلام کو متحد ہونے کی ضرورت ہے؟‘‘ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ اسرائیل کا ایران حملہ امریکا، فرانس، برطانیہ اور یورپی یونین کے
ممالک کی مشترکہ کارروائی ہے اور اس کا جواب بھی عالم اسلام اور خاص طور سے پاکستان، ترکیہ اور ملائیشیا کو دینا ہو گا‘ اگر ایسا نہ ہوا تو ایران کے بعد پاکستان اور ترکیہ اسرائیل کا اگلا ہدف ہوگا‘ اتحاد اور وحدت کا موضوع ایک ایسا حساس اور اہم ترین موضوع ہے کہ موجودہ دور میں اس پر جتنی زیادہ لب کشائی اور مضامین تحریر کیے جائیں وہ کم ہیں‘ اتحاد حقیقت میں کوئی نئی اصطلاح نہیں ہے۔ بنی نوع انسانیت کی تاریخ میں ہمیشہ سے اتحاد کا عنصر موجود رہا ہے لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اتحاد اور وحدت ایک حقیقت ہے‘ یہ حقیقت کسی نہ کسی صورت میں ہر دور میں موجود رہی ہے۔ جب بھی عالم اسلام یا مسلمانوں کے مابین اتحاد کی بات کی جاتی ہے توکچھ مقامات سے ایسی آوازیں بلند کی جاتی ہیں کہ جن کا مقصد اس اتحاد کی ضرورت کو کمزور یا غیر ضروری شمار کرنا ہوتا ہے۔ یعنی بعض مخالف قوتیں جن میں امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی حکومتیں شامل ہیں، ہمیشہ سے مسلمانوں کے باہمی اتحاد کو سبوتاژ کرنے اور اس امر میں مانع ہونے کے لیے اپنے ذرائع ابلاغ سے اس موضوع پر مختلف حیلے بہانوں سے حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ یعنی مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اتحاد کی کیا ضرورت ہے؟ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو مغربی دنیا کی تمام ظالم و سفاک حکومتیں جو کفر کے نظام پر قابض ہیں، سب کی سب آپس میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متحد ہیں۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ اسرائیل کا حملہ صرف ایران نہیں پورے عالم اسلام کے منہ پر طمانچے کی مانند ہے ‘ان حالات میں جی ہاں، عالم اسلام کے اتحاد کا وقت آگیا ہے‘ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز اور مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد اور یکجہتی بہت ضروری ہے‘ مسائل کا حل باہمی تعاون اور اتحاد میں ہی مضمر ہے‘ عالم اسلام اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں سیاسی عدم استحکام، معاشی مسائل، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا شامل ہیں‘ ان مسائل کا حل صرف اور صرف اتحاد اور باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے‘ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان متحد ہوئے ہیں، انہوں نے کامیابی حاصل کی ہے اور جب بھی وہ منتشر ہوئے ہیں، انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عبدالباسط نے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے بتایا ہے کہ وہ اس بات کی اجازت کسی مسلم ملک کو نہیں دے گا کہ وہ اسر ائیل کے سامنے کھڑا ہو اور اسی لیے موجودہ دور میں عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا اور مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا‘ اس تناظر میں ایران کو بھی دیکھنا ہو گا کہ جنوبی ایشیا میں بھارت نہیں پاکستان ایران کا دوست ہے ۔اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام اسلامی ممالک اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو فروغ دیں‘ اس کے علاوہ نوجوان نسل کو بھی اتحاد کی اہمیت سے آگاہ کرنا چاہیے اور انہیں ایک متحد امت کے تصور کو آگے بڑھانے کی ترغیب دینی چاہیے۔عالم اسلام کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ اتحاد سے ہو کر گزرتا ہے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ امت مسلمہ متحد ہو کر اپنے مسائل کا حل تلاش کرے اور ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل کا ایران عالم اسلام کے مسائل کا حل اتحاد اور اتحاد کی ایران پر کے لیے اور اس
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔