عالمی برادری ایران اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری اقدامات کرے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال تشویشناک ہے، پاکستان نے ایران پر اسرائیل کی کھلی جارحیت کی بھرپور مذمت کی ہے، عالمی برادری ایران اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری اقدامات کرے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کہا کہ اسرائیل نے پاکستان کے برادر ملک کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے، اس جارحیت کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ شہید ہوگئے ہیں، جبکہ سینکڑوں ابھی بھی زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس دن یہ جنگ شروع ہوئی اسی روز ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے بات ہوئی، ایرانی صدر کے ساتھ پاکستانی عوام کی طرف سے یکجہتی کا اظہار کیا، پاکستان خطے میں امن واستحکام چاہتا ہے، عالمی برادری ایران، اسرائیل جنگ بندی کیلئے فوری کردار ادا کرے۔
لاہور ہائیکورٹ سے سیف سٹی کے ای چالانوں کے متعلق بڑی خبر
وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کی صورتحال بھی انتہائی افسوسناک ہے، اسرائیلی جارحیت میں 50 ہزار فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، فلسطینی علاقوں میں ظلم کا بازار گرم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم ترکیہ میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
بجٹ کے متعلق گفتگو
وزیراعظم نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے، زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، زرعی شعبے کی ترقی کیلئے اقدامات ترجیح ہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے، 6 سے 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، سرکاری شعبے کا ترقیاتی پروگرام ایک ہزار ارب روپے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت محنت سے معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے، 2023 میں مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
گھریلو ملازمین کا عالمی دن؛ ورکرز ایکٹ 2019ء کےموضوع پر ایک آگاہی سیشن
شہباز شریف نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے امریکا اور یورپ میں بھرپور نمائندگی کی، قومی مؤقف اجاگر کرنے کیلئے پاکستانی وفد کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے دشمن کے خلاف کامیابی حاصل کی، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں، سکیورٹی اداروں کی تمام ضروریات پوری کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسرائیل جنگ نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔