لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں اضافہ، بارش کے کتنے امکانات ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
لاہور:پنجاب کے مختلف شہروں سمیت لاہور میں بھی حبس اور گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
لاہور شہر میں موسم خشک، گرم اور حبس زدہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید گرمی کا سامنا ہے۔ اگرچہ درجہ حرارت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، تاہم حبس کی کیفیت کے باعث گرمی کی شدت میں کمی محسوس نہیں ہو رہی اور ماحول مزید تکلیف دہ بنتا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور کا موسم گرم اور خشک رہے گا جبکہ بارش کے امکانات نہایت کم ہیں۔ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جو گرمی کی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ دھوپ میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور خود کو گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گرمی کی شدت
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔