امریکہ پر عوامی اعتماد کی کمی یکطرفہ بالا دستی کے غروب ہوتے سورج کی نشاندہی ہے، عالمی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
واشنگٹن : 2024 میں پیو ریسرچ سینٹر کے 34 ممالک پر کیے گئے سروے کے مطابق، 54 فیصد بالغ افراد نے امریکہ کے بارے میں “اچھی رائے” کا اظہار کیا، جبکہ 31% نے “منفی رائے” دی۔ لیکن رواں سال 11 جون کو پیو سینٹر کے جاری کردہ 24 ممالک کے تازہ سروے میں مثبت شرح گر کر 49% رہ گئی ہے۔ روایتی اتحادی ممالک میں امریکہ کے حوالے سے “اچھی رائے” کی شرح خاصی متاثر ہوئی ہے، جہاں کینیڈا میں 20 فیصد، جاپان میں 15 فیصد، جبکہ نیدرلینڈز، سپین، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں 10 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے جمعرات کے روز میڈ یا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیو رپورٹ کے ان اعدادوشمار دراصل ایک تلخ حقیت کا شاخسانہ ہیں: امریکہ کی محنت سے تعمیر کردہ عالمی قیادت کی عمارت لرز رہی ہے۔ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد کی خارجہ پالیسیوں نے اس کے اعتماد کو بلندی سے پستی پر گرا دیا ہے۔ گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیوں سے لے کر کینیڈا کے ساتھ تنازعات، اور غیرمنظم تجارتی پابندیوں تک، واشنگٹن کے جارحانہ رویہ نے بین الاقوامی تعلقات کے تمام روایتی اصولوں کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ سروے کے مطابق، ٹرمپ کی شخصیت اور خارجہ پالیسیوں پر عدم اعتماد براہ راست امریکہ کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ 62% افراد نے ٹرمپ کے بین الاقوامی فیصلوں پر عدم اعتماد کااظہار کیا، جبکہ 24 میں سے 19 ممالک میں اکثریت نے انہیں “خطرناک” قرار دیا ہے۔ میکسیکو میں 85% افراد انہی خیالات سے اتفاق رکھتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کا امیج ہر جگہ یکساں طور پر متاثر نہیں ہوا۔ اسرائیل میں 6 فیصد اضافے کے ساتھ اچھی رائے کی شرح 83% ہو گئی، جو امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے یعنی ایک عالمی رہنما سے “انتخابی طاقت” میں تبدیل ہونے کا عمل۔ اسرائیل میں ٹرمپ کی مقبولیت ان کی فوجی حمایت سے جڑی ہے، جبکہ ٹرمپ کے لیے یورپ میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی واضح ترجیح اور پسند پوپیولزم کی لہر کے تحت اقدار کے دوبارہ صف بندی کو ظاہر کرتی ۔تاریخ کے اس اہم موڑ پر، امریکہ کے سامنے دو راستے ہیں: یا تو یکطرفہ بالادستی کے خواب میں مبتلا رہ کر اپنی سافٹ پاور کو ضائع کرے، یا پھر معقولیت کی طرف لوٹ کر بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی تعاون پر مبنی نظام کو ازسرنو تعمیر کرے۔ پیو کے اعدادوشمار پہلے راستے کے تباہ کن نتائج کی واضح نشاندہی کر چکے ہیں۔بین الاقوامی نظام کے اس شطرنج میں، یکطرفہ طاقت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ پیو رپورٹ نہ صرف امریکہ میں “اعتماد کی کمی” کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ ایک کثیرالقطبی دنیا کی نئی قسم کی قیادت کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہ ضرورت طاقت کے مقابلے میں عقل و دانش،صف آرائی کے مقابلے میں تعاون، تنہائی کے بجائے رواداری، اور جنگل کے قانون کے مقابلے میں تہذیب کی طلبگار ہے۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بین الاقوامی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔