ایران پر حملے کی منظوری کادعویٰ،صدرٹرمپ کا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی سختی سے تردید کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی لیکن حتمی حکم جاری کرنے سے گریزاں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سینئر معاونین کو بتایا تھا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے امکانات دیکھ رہے ہیں اور اس کے بعد ہی حملے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔
تاہم، اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم“ٹروتھ سوشل“ پر ایک مختصر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”دی وال اسٹریٹ جرنل کو میری ایران کے بارے میں سوچ کا بالکل بھی علم نہیں ہے۔“
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کی منظوری سے متعلق امریکی اخبار کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے امریکی صدر حملے کا باقاعدہ حکم دیں گے۔ تاہم ابھی حملے کا باقاعدہ حکم نہیں دیا گیا۔ امریکی اخبار نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے ایٹمی پروگرام ختم کرنے کا انتظار ہے۔
ادھر نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ ایرانی وفد کو ملاقات کی جلد دعوت دیں گے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے دعوت قبول کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی کی ٹیم سے ملاقات ہوئی ہے۔ ایران اسرائیل جنگ میں شامل ہونے سے متعلق ابھی فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔