ملینیم مال و عامر مارکیٹ آتشزدگی: منعم ظفر کا تاجروں کو زرِ تلافی دینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے جمعرات کے روز ملینیم مال گلشن اقبال اور عامر الیکٹرونکس مارکیٹ صدر کا دورہ کیا اور آتشزدگی سے متاثرہ دکانوں اور تاجروں سے ملاقات کی۔
اس موقع پر تاجروں نے منعم ظفر خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے سیاسی رہنما ہیں جو متاثرین سے ہمدردی کے لیے پہنچے جب کہ کسی اور جماعت کے رہنما یا حکومتی نمائندے نے تاحال متاثرین سے رابطہ تک نہیں کیا۔
منعم ظفر خان نے متاثرہ تاجروں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومت سندھ اور کے ایم سی سے مطالبہ کیا کہ تمام متاثرہ دکانداروں کو فوری طور پر مالی امداد اور زرِ تلافی فراہم کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ سے اپنا کاروبار شروع کر سکیں، متاثرہ دکانیں صرف کاروبار نہیں تھیں بلکہ ان سے وابستہ سینکڑوں خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا، جنہیں حکومتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کے باعث بدترین نقصان برداشت کرنا پڑا۔
انہوں نے میئر کراچی اور سندھ حکومت کے کسی نمائندے کی جانب سے تاحال متاثرین کی داد رسی کے لیے عدم حاضری پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے تاجر و شہری حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سانحے کے بعد فائر بریگیڈ کا تاخیر سے پہنچنا معمول بن چکا ہے، جس کی وجہ سے اکثر متاثرین کو اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے اور سامان بچانے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ ملینیم مال میں 250 دکانیں تھیں جن میں سے متعدد خاکستر ہو گئیں، جب کہ عامر مارکیٹ میں 34 میں سے 30 دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں، خواتین دکانداروں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر آگ سے سامان بچایا، مگر حکومت کی جانب سے کوئی معاونت نہیں ملی۔
اس موقع پر الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر رضوان عرفان، کوآپریٹو مارکیٹ کے جنرل سیکریٹری اسلم خان، عامر مارکیٹ کے نمائندہ حبیب پٹیل اور دیگر تاجر رہنماؤں نے آتشزدگی کے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور فائر بریگیڈ بروقت حرکت میں آتے تو اتنا بڑا نقصان نہ ہوتا۔
تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر نقصانات کا ازالہ کیا جائے اور تاجروں کو کاروبار دوبارہ شروع کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔
تاجر رہنماؤں نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر