وزیر مملکت برائے خزانہ اور وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ کے سربراہ بلال اظہر کیانی کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس کے معاملات میں انکوائری اسٹیج پر گرفتاری نہیں ہوگی، وزیراعظم نے کاروباری برادری کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ سیلز ٹیکس سے متعلق چند مقدمات میں گرفتاری سے متعلق شقوں میں فاروق ایچ نائیک اور قائمہ کمیٹی کی سفارشات پر تبدیلیاں کی گئی ہیں، 5 کروڑ سے کم کے سیلز ٹیکس فراڈ پر گرفتاری عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں اپنی معیشت کا ڈی این اے تبدیل کرنا ہے، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

بلال اظہر کیانی کے مطابق شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے گرفتاری سے قبل ایف بی آر کی 3 رکنی کمیٹی سے اجازت لینا ضروری ہو گا، سیلز ٹیکس فراڈ کے معاملات میں ایف بی آر کے پاس گرفتاری کا اختیار پہلے سے موجود تھا، جس شہری کے خلاف الزام ہو گا اس کو اب شنوائی کا موقع دیا جائے گا۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے قومی اسمبلی اراکین کو بتایا کہ پہلے سرکاری حکام کسی بھی کاروباری شخصیت کو گرفتار کر سکتے تھے، حکومت نے یہ اختیار ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، مالی سال 25-2024 میں معاشی استحکام حاصل کیا اور آئی ایم ایف شرائط پوری کرتے ہوئے عوام کو ریلیف بھی دیا۔

مزید پڑھیں:بجٹ 26-2025: تنخواہوں میں 10 فیصد، پینشن میں 7 فیصد اضافہ، مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کے لیے اسپیشل الاؤنس

انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی برآمدات کے فروغ اور معیشت چلانے کے وزیراعظم شہباز شریف کے وژن میں بڑا سنگ میل ثابت ہو گی۔موجودہ آئی ایم ایف کا پروگرام آخری تب ہی ہو گا جب ہماری معیشت پائیدار ترقی کرے اور برآمدات سے ڈالر کمانے کے قابل بن جائے۔

بلا اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ ‘بوم اور بسٹ سائیکل’ کے ماضی کے تجربے سے سبق سیکھتے ہوئے چادر کے مطابق عوام کو ریلیف دیتے رہیں گے، انہوں نے موجودہ بجٹ میں عوامی ریلیف کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں کمی سے ریلیف دیا۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی نے مالی سال 25-2024 کے بجٹ کی منظوری دے دی

’موجودہ مالی سال میں مہنگائی کی شرح کی توقع 12 فیصد تھی جسے کم کر 4.

7 فیصد پر لے آئے اور مہنگائی کی ماہانہ شرح 0.4 فیصد پر لے آئے، اسی طرح پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد پر لائے جو معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے بہت ضروری ہے۔‘

وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ مقامی صنعت کی ترقی کے لیے خام مال اور مشینری  کی قیمت میں کمی کے اقدامات کر رہے ہیں، معاشی قدغن کے باوجود بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ کو 592 ارب روپے سے بڑھا کر 716 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:بجٹ 26-2025: کس شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد زیادہ مستفید ہوں گے؟

انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت حکومت ایک کروڑ مستحق خاندانوں کی مدد کر سکے گی، وزیراعظم کے وژن کے مطابق سالانہ 6 سے 12 لاکھ روپے کمانے والوں کے آمدنی ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص میں ہماری افواج اور عوام نے اللّٰہ کی مدد سے فتح حاصل کی، بھارتی جارحیت کے دوران ہم اللّٰہ کے فضل اور حکومت کی بہترین معاشی کارکردگی کی وجہ سے آئی ایم ایف کے بورڈ میں بھی سرخرو ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایم ایف بجٹ بلال اظہر کیانی بُنیان مرصوص بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلز ٹیکس سیلز ٹیکس فراڈ شہباز شریف عوامی ریلیف قومی اسمبلی کاروباری برادری گرفتاری معاشی کارکردگی وزیر اعظم وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ وزیر مملکت برائے خزانہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف بلال اظہر کیانی ب نیان مرصوص بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلز ٹیکس سیلز ٹیکس فراڈ شہباز شریف عوامی ریلیف قومی اسمبلی کاروباری برادری گرفتاری معاشی کارکردگی وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ وزیر مملکت برائے خزانہ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سیلز ٹیکس فراڈ قومی اسمبلی نے کہا کہ ایم ایف کے لیے

پڑھیں:

رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو متحرک کرنے اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں بڑی کمی کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ٹیکس کی موجودہ شرح 1.5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

اس کے ساتھ ہی جائیداد کی فروخت پر لاگو 4.5 فیصد ٹیکس کو بھی گھٹا کر 1.5 فیصد تک لانے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

حکومت اس اہم پالیسی تبدیلی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جہاں بین الاقوامی ادارے کی جانب سے ان تجاویز پر تحفظات اور مخالفت کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے باوجود حکومتی سطح پر ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ٹیکسوں کی شرح میں کمی سے پراپرٹی مارکیٹ میں مندی کا خاتمہ ہوگا اور کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، تعمیراتی شعبے میں روزگار بڑھے گا اور مجموعی طور پر قومی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان