UrduPoint:
2026-06-03@05:45:42 GMT

ایران اسرائیل تنازعہ: یورپی ممالک کی سفارتی حل کی کوششیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

ایران اسرائیل تنازعہ: یورپی ممالک کی سفارتی حل کی کوششیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 جون 2025ء) گزشتہ جمعے کو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اچانک حملے کے بعد سے کشیدگی میں کمی کے بجائے اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب یہ بحران دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔

کشیدگی میں کمی کے بہت کم آثار نظر آ رہے ہیں، جبکہ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی مہم میں شامل ہونے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔

یورپ کی سفارتی حل کی کوشش

ایران اسرائیل تنازعے پر بات چیت کے لیے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جمعے کے روز اپنے ایرانی ہم منصب سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس کا مقصد ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر سفارت کاری کی طرف واپسی کا راستہ بنانا ہے۔

ان مذاکرات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی، فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیروٹ، جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ کاجا کالس شامل ہوں گے۔

(جاری ہے)

’جارحیت کی جنگ میں‘ آئی اے ای اے اسرائیل کی شراکت دار، ایرانی الزام

برطانوی وزیر خارجہ لیمی نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور پھر انہوں نے کہا کہ تہران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی وقت ہے۔

لیمی نے واشنگٹن میں برطانیہ کے سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا، "مشرق وسطیٰ کی صورتحال بدستور خطرناک ہے۔

"

ان کا مزید کہنا تھا، "ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ ایران کو گہرے ہوتے تنازعے سے بچنے کے لیے کس طرح ایک معاہدہ کرنا چاہیے۔ سفارتی حل کے حصول کے لیے اب ایک ونڈو اگلے دو ہفتوں تک موجود ہے۔"

ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اسرائیلی حملوں کی مہم جاری ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف حملوں میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں، اس تناظر میں یورپی ممالک تنازعے کو کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے خلاف آیت اللہ سیستانی کی وارننگ

اگلے دو ہفتوں میں ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر تذبذب کا شکار دکھائی دیتے ہیں کہ آیا زیر زمین جوہری تنصیبات پر بمباری کر کے وہ ایران پر اسرائیل کے حملے میں شامل ہوں یا نہ ہوں۔ ان کے سیاسی حامی بھی اس معاملے پر منقسم ہیں۔

ٹرمپ نے بذات خود اپنی انتخابی مہم کے دوران اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ غیر ملکی جنگوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔

جمعرات کی شام کو وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ صدر ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں ایران پر حملہ کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔

پوٹن جرمن چانسلر اور یوکرین کے صدر سے ملاقات کے لیے تیار

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کو اب بھی ایک موقع نظر آتا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات امریکی اور اسرائیلی مطالبات کو حاصل کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی افزودگی کے عمل اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دیگر امکانات کو بند کر دے۔

لیویٹ نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ "اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کے ساتھ مستقبل قریب میں مذاکرات کا بہت امکان ہے یا نہیں بھی ہو سکتا ہے، میں اپنا فیصلہ اگلے دو ہفتوں کے اندر کروں گا کہ جنگ میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔

"

امریکہ اس بات پر غور کرتا رہا ہے کہ آیا وہ فردو کے مقام پر ایران کی محفوظ ترین یورینیم افزودگی کی تنصیب پر حملہ کر کے اسرائیل کے حملے میں شامل ہو یا نہ ہو۔ یہ تنصیب ایک پہاڑ کے نیچے واقع ہے اور اسے امریکی "بنکر بسٹر" بموں سے ہی تباہ کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ٹرمپ "وہ کریں گے جو امریکہ کے لیے بہتر ہو گا۔

"

نیتن یاہو نے کہا کہ "میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ پہلے ہی بہت مدد کر رہے ہیں۔"

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم کیوں؟

ایران میں موجود افغانوں کو خوف اور بے یقینی کا سامنا

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) کا اندازہ ہے کہ تقریباً ساڑھے چار ملین افغان شہری ایران میں مقیم ہیں۔

بعض دوسرے ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تنہا پڑتے جا رہے ہیں؟

تاہم اطلاعات ہیں کہ ایران میں افغان مہاجرین کے لیے حالات ابتر ہو چکے ہیں۔

انہیں صرف انتہائی مہنگی قیمتوں پر خوراک خریدنے کی اجازت ہے اور ان پر تہران چھوڑنے پر پابندی بھی عائد ہے، جبکہ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں ان کے لیے واپس جانا بھی کوئی آپشن نہیں ہے۔

ایران اسرائیل کے درمیان موجودہ خطرناک تنازعے کے سبب ایسے افغانوں کی زندگی مزید بہت مشکل ہو گئی ہے۔

ادارت: جاوید اختر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں شامل ہو سفارتی حل ایران کے کہ ایران دو ہفتوں کے خلاف رہے ہیں بات پر اس بات کہا کہ نے کہا کے لیے

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی