UrduPoint:
2026-06-02@23:09:56 GMT

ورلڈ ریفیوجی ڈے: افغان پناہ گزینوں کی صورتحال

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

ورلڈ ریفیوجی ڈے: افغان پناہ گزینوں کی صورتحال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 جون 2025ء)
ہر سال کی طرح اس بار بھی 20 جون کو ورلڈ ریفیوجی ڈے منایا جا رہا ہے۔ اس سال اس دن کا موٹو ہے ’’ریفیوجیز کے ساتھ یکجہتی۔‘‘

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں چاردہائیوں سے لاکھوں کی تعدادمیں افغان پناہ گزین رہائش پذیرہیں لیکن دونوں ممالک کے مابین کشیدہ تعلقات کی وجہ سے اب پاکستان بغیردستاویزات کے ملک میں رہائش پذیر افغان پناہ گزینوں کو واپس بھیج رہا ہے۔

پاکستان میں رہائش پذیر 70 فیصد افغان پناہ گزین انتہائی کسمپریسی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

اکتوبر2023 ء سے پاکستان کےغیرقانونی طور یہاں مقیم غیرملکیوں کو نکالنے کے فیصلے سے یہاں رہائش پذیرلاکھوں افغان پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔

(جاری ہے)

وفاق اورخیبرپختونخوا کے مابین پالیسی اختلاف کی وجہ سے خیبر پختونخوامیں افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی شروع نہ ہوسکی۔

پاکستان کے دیگرشہروں سے افغان باشندوں کو گرفتارکر کے انہیں خیبرپختونخوا کے راستے سے افغانستان واپس بیجھا جارہاہے جبکہ اب غیرقانونی افغان پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ 30 جون کے بعد دستاویزات رکھنے والے افغانوں کوبھی ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک دس لاکھ افغان پناہ گزینوں کودیگرصوبوں سے لاکرطورخم اوردیگرسرحدی گذرگاہوں کے راستے افغانستان روانہ کر دیا گیا ہے لیکن خیبرپختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی شروع نہ ہوسکی ۔

یوں دیگرصوبوں میں آپریشن اورزبردستی پاکستان سے نکالےجانے سے بچنے کے لیے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں نے پختونخوا کے مختلف شہری اوردیہی علاقوں میں رشتہ داروں کے ہاں پناہ لی۔

پشاورکے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''صرف پشاور میں اس مختصرعرصے میں ایک لاکھ سے زیادہ افغان پہنچ گئے ہیں ان میں وہ افغان بھی شامل ہیں جو ملک بدری کے بعد دیگر راستوں سے پاکستان میں داخل ہوئے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ایسے افغان ملک کے دیگر حصوں میں کاروبار کررہے تھے اور انہیں گرفتار کرکے ڈی پورٹ کیا گیا تھا لیکن یہ لوگ اپنے کاروباری شراکت داروں سے اپنی رقم لینے کے لیے مجبوراً یہاں قیام کررہے ہیں۔‘‘ خیبرپختونخواحکومت کاموقف

صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت نے افغان پناہ گزینوں کونکالنے کے لیے ہم سے مشاورت نہیں کی تھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپورکے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا تھا، ''صوبائی حکومت نے واضح طورانتظامیہ کوہدایت کی ہے کہ کسی افغان کو جانے پرمجبورنہ کیا جائے۔

جن کے پاس دستاویزات موجود ہیں وہ یہاں رہ سکتے ہیں اور اگر کوئی افغان باقاعدہ دستاویزات لیکرواپس پختونخوا آتا ہے توہم انہیں نہیں روکیں گے ۔ ہم وفاق کی افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ بیرسٹرسیف نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے کئی بار وفاقی حکومت سے بات میں شامل کرنے کے لیے کہا اورباقاعدہ طور پر بھی ایک خط لکھا لیکن ان کی تجاویزپر کوئی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

‘‘ افغان پناہ گزینوں کی انتہائی مشکل صورتحال

خیبرپختونخوا میں رہائش پذیرافغان پناہ گزینوں کی اکثریت انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذاررہی ہے۔ زیادہ ترافغان یومیہ اجرت پرمزدوری کرتے ہیں صوبے میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے کنسٹرکشن یا تجارتی گوداموں اورمنڈیوں میں کام کرتے ہیں۔ وفاق کی جانب سے مہاجرین کی بے دخلی کے بعد وہ غیر یقینی صورتحال اورذہنی اذیت سے دوچار ہیں ان میں زیادہ تر اپنے کم سن بچوں اور بچیوں کو بھی کام پر لگائے ہوئے ہیں۔

پاکستانی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہزاروں بچے تعلیم سے محروم ہوگئے۔ ایک بڑی تعداد میں ٹرانسجنڈر، فنکار اور صحافی اب بھی تیسرے ملک میں پناہ لینے کے منتظرہیں۔ پشاور میں درجنوں نجی افغان تعلیمی ادارے، فلاحی ادارے اور کاروباری مراکز بند کئے گئے جبکہ کاروباری طبقے کواپنا کاروبارسمیٹنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پشاورکینٹ کے تاجراتحاد کے صوبائی صدرمجیب الرحمان نے ڈٰی ڈبلیوکو بتایا، ''افغان مہاجرین میں بعض نے یہاں بھاری سرمایہ کاری کی ہے لیکن پاکستانیوں کے مقابلے میں یہ کسی قسم کا ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

‘‘ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کو لانے کے لیے سرتوڑکوشش کررہا ہے لیکن بدامنی کی وجہ سے کوئی یہاں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیارنہیں۔ ایسے میں پاکستان کو انافغان پناہ گزینوں کو سہولیات فراہم کرناچاہیے جو یہاں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا، ''پاکستان کی پالیسیوں کی وجہ سے افغان سرمایہ دار مڈل ایسٹ، بنگلہ دیش اورترکی منتقل ہوگئے جہاں ان ممالک نے انہیں ایک خطیررقم کی سرمایہ کاری پرمراعات دینے کا اعلان کیا، لیکن پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔

‘‘

خیبرپختونخوا میں رہائش پذیرافغان پناہ گزینوں میں بعض نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنائے ہیں جس کے زریعے وہ سرکاری محکموں میں بھرتی ہوئے۔ صوبائی حکومت نے حال ہی میں ایسے افغان باشندوں کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں۔ اس دوران میٹروپولیٹن سمیت پولیس اوردیگرمحکموں میں بھی مشکوک اہلکاروں کے بارے میں تحقیقات شروع کی گئیں۔

تحقیقاتی اداروں نے ایسے 14 اہلکاروں کی نشاندہی کی جوسرکاری محکموں میں بھرتی ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں کےمطابق ان کے قریبی رشتہ دارافغان نیشنلٹی پربیرون ملک سیاسی پناہ لے چکے ہیں۔ ماہرین کیا کہتے ہیں

وفاقی حکومت کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کی جبری بے دخلی سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کے خدشات موجود ہیں افغان اُمورپرکام کرنے والے عزیزالرحمان نے ڈی ڈبلیوکو بتایا، ''بغیرکسی ہوم ورک کے افغان پناہ گزینوں کے خلاف کارروائی سے دونوں ممالک کے عوام کے مابین دوریاں بڑھ گئی ہیں۔

انکا مزید کہنا تھا کہ بے دخل کیے جانیوالے افغانوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی تھی جن کے قریبی رشتہ دار بیرون ملک رہائش پذیر ہیں اور وہ ہرماہ ایک خطیر رقم پاکستان ارسال کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ پاکستان کے زرمبادلہ میں اہم کردارادا کر رہے تھے۔ افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کے ساتھ ہی افغانستان میں کام کرنے والے ہزاروں افراد کو بھی افغانستان چھوڑنا پڑا۔

یوں یہاں بھی ایک بڑا نقصان ہوا جبکہ تجارت میں اب ماہانہ کروڑوں روپے کے نقصان کے ساتھ خیبر سے کراچی تک کروڑوں روپے کا کاروبار کرنے والے تاجر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان کا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔‘‘

ادارت: کشور مصطفیٰ

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے افغان پناہ گزینوں کی افغان پناہ گزینوں کو افغان پناہ گزینوں کے میں افغان پناہ صوبائی حکومت سرمایہ کاری میں رہائش کی وجہ سے کرتے ہیں کہنا تھا حکومت نے سے افغان ممالک کے کے ساتھ بے دخلی کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 

گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن  جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔ 

لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی

نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔

ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان

سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔

جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ

یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ  کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی