data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمت عملی پر اثر انداز ہونے والا ایک طاقتور جنرل منظر عام پر آیا ہے، جسے ایران کے جوہری مقامات پر ممکنہ امریکی حملے کی منصوبہ بندی کی غیر معمولی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ امریکی اخبار “پولیٹیکو” کی رپورٹ کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے دوران جنرل ایرک کوریلا کو غیر معمولی اختیارات دیے ہیں۔ جنرل کوریلا ایران کے حوالے سے سخت گیر موقف رکھتے ہیں اور فوجی طاقت کے استعمال کے حامی ہیں۔
وہ امریکی سینٹرل کمانڈ (United States Central Command – CENTCOM) کے موجودہ سربراہ ہیں۔ جنرل مائیکل ایرک کوریلا (Michael Erik Kurilla) ایک تجربہ کار اور سینئر فوجی افسر ہیں جنہوں نے عراق اور افغانستان سمیت کئی جنگی محاذوں پر قیادت کی۔ وہ اپنی سخت گیر سوچ، مضبوط جسمانی ساخت اور جنگی حکمت عملی کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں اور امریکی فوجی و دفاعی حلقوں میں ان کا بڑا اثر و رسوخ ہے۔
جنرل کوریلا، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی درخواست پر خطے میں مزید طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی طیارے اور دیگر فوجی ساز و سامان تعینات کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر دفاع نے کوریلا کی تقریبا تمام سفارشات منظور کی ہیں۔ کوریلا کو پنٹاگون کے دیگر اعلیٰ افسران پر فوقیت حاصل ہے اور وہ خاموش مگر فیصلہ کن انداز میں امریکی پالیسی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
کوریلا کو صدر ٹرمپ سے دیگر جرنیلوں کے مقابلے میں زیادہ براہ راست رسائی حاصل ہے۔ وہ اپنی مدتِ قیادت کے اختتام کے قریب ہونے کے باعث پالیسی میں سخت موقف اپنانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ان کے مشورے پر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں دوسری طیارہ بردار کشتی، ایف-22، ایف-35 اور ایف-16 طیارے تعینات کیے ہیں، جس سے بحرالکاہل سے ان طیاروں کی واپسی ہوئی اور مشرق وسطیٰ ایک بار پھر امریکی توجہ کا مرکز بن گیا۔
پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ کوریلا اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین کے درمیان اختلاف کی بات درست نہیں اور دونوں مل کر صدر کو مشورے دیتے ہیں۔ کوریلا، جو عراق جنگ کے دوران زخمی ہوئے اور برونز اسٹار حاصل کر چکے ہیں، اپنی سخت گیر شخصیت اور جنگی مہارت کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت، مضبوط جسمانی ساخت اور دبدبہ انہیں ایسا جرنیل بناتا ہے جیسا کہ ٹرمپ اور ان کے وزیر دفاع دیکھنا چاہتے ہیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی تیسری قوت ایران اور اسرائیل کے درمیان تصادم میں مداخلت کرے گی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکی فوجی مداخلت کی صورت میں ایسے نقصانات ہوں گے جو ناقابل تلافی ہوں گے اور ایرانی قوم کسی کے سامنے جھکنے والی نہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دو ہفتے امریکی فیصلے کے لیے اہم ہوں گے کہ آیا ایران پر حملہ کیا جائے گا یا نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی