’پاکستان کے پاس صرف 12 دن کی پٹرولیم مصنوعات ہیں‘
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف 12 دن کی پٹرولیم مصنوعات ہیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے یہ چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے پاس صرف 12 دن کی ضرورت کے لیے پٹرولیم مصنوعات ہیں۔
عمر ایوب نے مزید کہا کہ اس وقت دنیا میں تیل کا ذخیرہ 1.
اپوزیشن لیڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تیل کی قیمت اوپر اور روپیہ نیچے جا رہا ہے، لیکن ہماری حکومت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔ امریکا میں بزنس کیمونٹی ہے، وہ ترقی پزیر ممالک کو آنے نہیں دینگے۔
پی ٹی آئی رہنما کا یہ بھی کہا ہے کہ فنانس کے حوالے سے تھوڑا بہت ہم بھی جانتے ہیں۔ بجٹ میں چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ بجٹ نافذ العمل ہونے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کا طوفان آئے گا۔
واضح رہے کہ ایران اسرائیل جنگ شروع ہونے کے بعد خام تیل کی قیمت عالمی سطح پر بڑھ گئی ہیں اور 10 فیصد تک اضافہ کے بعد قیمت 75 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خمیازہ پاکستانیوں کو بھی بھگتنا پڑا اور حکومت نے رواں ماہ 15 جون کو اگلے پندرہ روز کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب ایران اسرائیل جنگ کے بعد پاکستان میں ایل پی جی کے سنگین بحران کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی فی کلو قیمت 500 روپے اور گھریلو سلنڈر 6000 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:طلبا کے لیے اہم خبر ! کالج میں داخلے کے لیے نئی شرط عائد
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمت کے بعد کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم