حکومت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس بلائے
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون 2025ء) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال کے پیش نظر اسلامی سربراہی کانفرنس کا اسلام آباد میں فوری اجلاس بلایا جائے، امریکا عالم اسلام کا دشمن ہے، غزہ، ایران میں صہیونی جارحیت واشنگٹن کی سرپرستی میں ہورہی ہے۔ منصورہ کی جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اسلامی دنیا اور انسانیت دوست ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا عراق اور افغانستان میں مسلمانوں کے قتل عام اور تباہی پھیلانے کے بعد امریکا وہی کھیل ایران میں کھیلنا چاہتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی اسے امریکی پشت پناہی حاصل ہے۔(جاری ہے)
واشنگٹن کی مدد کے بغیر اسرائیل کی کوئی حیثیت نہیں، پوری عالمی برادری کے حق میں ہونے کے باوجود امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کردی، یہ سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق دنیا کو جنگ کی آگ میں دھکیل رہا ہے۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان کے عوام ایران کے ساتھ ہیں۔ اسلامی ممالک کی حکومتیں امریکا سے خوف زدہ نہ ہوں، بلکہ ڈٹ جائیں اور امت کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کریں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل کے ایران پر حملوں اور امریکا کے جنگ میں کودنے کے اعلانات کے باوجود حکومت پاکستان سنجیدہ اقدامات کرتی نظر نہیں آتی۔ دنیا بھر کے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اسلام آباد غزہ اور ایران کے مسئلہ پر قائدانہ کردار ادا کرے، جنگ کی آگ پھیلتی گئی تو یہ مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور پھر اس کی تباہی کو روکنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک اپنے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے امت کے اجتماعی مفاد پر جمع ہوجائیں تاکہ اسلام دشمن قوتوں کے گھناؤنے ایجنڈے کو ناکام بنایا جاسکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔