جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے آئندہ قومی انتخابات میں اسلامی نظام کے حامی امیدواروں کی کامیابی کے لیے ملک گیر اتحاد پر زور دیا ہے۔

سلیٹ کے بینی بازار اپازیلہ میں جماعت اسلامی کی جانب سے منعقدہ ایک بڑے جلسے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل اور سابق رکنِ پارلیمنٹ پروفیسر میاں غلام پرور نے کہا کہ اگر عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے دیا جائے تو وہ ان امیدواروں کو منتخب کریں گے جو اسلامی اقدار کے علمبردار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے

پروفیسر میاں غلام پرور نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اسلامی آئیڈیل ریاست کے قیام کے لیے متحد و متحرک رہیں۔

انہوں نے بنگلہ دیش کی سابق حکمران جماعت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا، ’عوامی لیگ نے علما کو دبا کر، جعلی مقدمات کے ذریعے قومی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش کی، عوامی لیگ نے بنگلہ دیش کو ایک ناکام ریاست بنا دیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت بیرونی ایجنڈے کے تحت اسلامی اسکالروں کو نشانہ بنارہی ہے اور جمہوری اداروں کو تباہ کرچکی ہے۔ انہوں نے اگست تحریک کی روشنی میں ’اسلامی اقدار اور حقیقی جمہوریت کی بحالی‘ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسلامی نظام بنگلہ دیش پروفیسر میاں غلام پروار جماعت اسلامی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلامی نظام بنگلہ دیش پروفیسر میاں غلام پروار جماعت اسلامی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی