جماعتِ اسلامی کا بنگلہ دیش میں اسلامی حکومت کے قیام کے لیے ملک گیر اتحاد پر زور
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے آئندہ قومی انتخابات میں اسلامی نظام کے حامی امیدواروں کی کامیابی کے لیے ملک گیر اتحاد پر زور دیا ہے۔
سلیٹ کے بینی بازار اپازیلہ میں جماعت اسلامی کی جانب سے منعقدہ ایک بڑے جلسے سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل اور سابق رکنِ پارلیمنٹ پروفیسر میاں غلام پرور نے کہا کہ اگر عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے دیا جائے تو وہ ان امیدواروں کو منتخب کریں گے جو اسلامی اقدار کے علمبردار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے حکومتی ’غیر جانبداری‘ پر سوالات اٹھا دیے
پروفیسر میاں غلام پرور نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ اسلامی آئیڈیل ریاست کے قیام کے لیے متحد و متحرک رہیں۔
انہوں نے بنگلہ دیش کی سابق حکمران جماعت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا، ’عوامی لیگ نے علما کو دبا کر، جعلی مقدمات کے ذریعے قومی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش کی، عوامی لیگ نے بنگلہ دیش کو ایک ناکام ریاست بنا دیا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت بیرونی ایجنڈے کے تحت اسلامی اسکالروں کو نشانہ بنارہی ہے اور جمہوری اداروں کو تباہ کرچکی ہے۔ انہوں نے اگست تحریک کی روشنی میں ’اسلامی اقدار اور حقیقی جمہوریت کی بحالی‘ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلامی نظام بنگلہ دیش پروفیسر میاں غلام پروار جماعت اسلامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی نظام بنگلہ دیش پروفیسر میاں غلام پروار جماعت اسلامی جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔