data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے صوبائی بجٹ 2025-26 پر اپنی تقریر میں بجٹ کو “عوام دشمن اور کراچی دشمن” قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا۔

جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی   نے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے ایک بار پھر کراچی کے تین کروڑ سے زائد عوام کو نظرانداز کیا، جو سالانہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد ٹیکس دیتے ہیں مگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

محمد فاروق نے کہا کہ K-IV منصوبہ جو کراچی کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اسے وفاق کی جانب سے صرف 3.

2 ارب روپے دیے گئے جبکہ صوبائی حکومت نے اس منصوبے کے لیے کچھ بھی مختص نہیں کیا۔ ان کے مطابق، واٹر بورڈ کے ناکارہ نظام اور واٹر مافیا کی سرپرستی نے شہریوں کو نلکے کے پانی سے محروم کر دیا ہے، جب کہ ٹینکر مافیا مہنگے داموں پانی فروخت کر رہی ہے۔

انہوں نے بجٹ میں صحت کے شعبے میں اربوں روپے کی این جی اوز کو منتقلی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ رقم سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کی بجائے بیوروکریسی کی جیبوں میں جاتی ہے۔

 جناح اسپتال اور عباسی شہید اسپتال کی حالت زار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادویات کی شدید قلت اور ایک ہی سرنج سے بچوں کو انجکشن دینے جیسے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔

انہوں نے تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ 613 ارب روپے میں سے 524 ارب صرف تنخواہوں میں چلے جاتے ہیں، جب کہ 80 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور ان کے لیے کوئی عملی منصوبہ موجود نہیں۔

محمد فاروق کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کے لیے مختص 327 ارب میں سے صرف 123 ارب ترقیاتی کاموں کے لیے رکھے گئے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 140-A پر عمل درآمد نہ ہونے پر بھی انہوں نے سخت اعتراض اٹھایا اور کہا کہ تمام اختیارات سندھ حکومت اور میئر کے پاس مرتکز ہیں، ٹاؤن اور یوسیز کو کچھ نہیں دیا جا رہا۔

ٹرانسپورٹ کے بجٹ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جماعت اسلامی رکن سندھ اسمبلی  نے کہا کہ کے سی آر جیسے بڑے منصوبے کے لیے پچھلے سال صرف ساڑھے چار لاکھ روپے رکھے گئے تھے، سندھ حکومت کی 18 سالہ کارکردگی میں صرف 300 بسیں شامل کی گئیں جبکہ نعمت اللہ خان نے صرف چار سال میں 375 بسیں چلائیں۔

آئی ٹی بجٹ کے حوالے سے کہا کہ سندھ حکومت نے صرف 1.33 ارب روپے مختص کیے، جب کہ یہ واضح نہیں کہ سندھ آئی ٹی کمپنی کون چلا رہا ہے اور یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے۔

انہوں نے کے الیکٹرک کے خلاف بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت یا تو اسے کنٹرول نہیں کر سکتی یا نہیں کرنا چاہتی۔ سیف سٹی منصوبہ ابھی تک نامکمل ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مختص 224 ارب روپے کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں۔

سب سے زیادہ طنزیہ انداز میں سی ایم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے اخراجات پر بات کرتے ہوئے محمد فاروق نے کہا کہ سی ایم ہاؤس میں چائے بسکٹ کے لیے 1.34 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ گورنر ہاؤس کے لیے بھی 1.18 ارب روپے رکھے گئے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو اس کا جائز حق دیا جائے، ترقیاتی فنڈز نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں، اور سندھ کے بجٹ کو کراچی، حیدرآباد اور شہری سندھ کے ساتھ انصاف کے اصولوں پر از سر نو مرتب کیا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہوئے کہا کہ محمد فاروق سندھ حکومت کرتے ہوئے نے کہا کہ ارب روپے انہوں نے کہ سندھ کے لیے

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن