عمران خان کے لیے ریلیف عدالتوں سے لیں گے‘ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے متعلق ریلیف عدالتوں سے لیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں کروں گا، ڈیل کا کوئی جواز اور امکان نہیں ہے، عمران خان یا تحریک انصاف نے کبھی کسی ملک سے تعاون کی التماس نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جو ریلیف ملے گا وہ آئین اور قانون کے مطابق ہی عدالتوں سے لیا جائے گا، عدالتیں بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہیں، ہم نے کبھی عمران خان کی رہائی کے لیے نئی امریکی انتظامیہ سے امیدیں نہیں لگائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے وفد نے ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا ہے، ہم نے ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے، ایران میں ہونے والی اموات پر ہم نے تعزیت کی، ہم نے ایرانی سفیر کو بتایا کہ پاکستانی حکومت، اپوزیشن اور عوام سب آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نے اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔