اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی معیشت کیلئے خطرہ، موجودہ بجٹ ڈیڈ آن ارائیول ہے، اپوزیشن لیڈر
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کاکہنا ہے کہ کویت اور ایران میں دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں اور اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو عالمی منڈی میں توانائی کا بحران پیدا ہو جائے گا۔
اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ ایران پر اسرائیل کا حملہ ایک دہشت گردی ہے، ایران کی لیڈر شپ کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جنگ بندی کے عمل میں لیڈر شپ ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ دنیا میں روزانہ 10 کروڑ 40 لاکھ بیرل تیل استعمال ہوتا ہے لیکن عالمی ذخیرہ محض 12 دنوں کا ہے، جو ایک بڑے تنازع کے نتیجے میں ناکافی ثابت ہو سکتا ہے، جاپان سمیت مشرق بعید کے کئی ممالک مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں، اور جنگ کا دائرہ بڑھا تو عالمی معیشت کو زبردست دھچکا لگے گا۔
اپوزیشن لیڈر نے موجودہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا معیشت پر انحصار “غلط ماڈل” پر مبنی ہے، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس سے فراہم کردہ ڈیٹا ناقابلِ اعتماد ہے کیونکہ لیبر فورس سروے ہی نہیں کیا گیا، جس کی بنیاد پر بجٹ اور ترقیاتی اہداف طے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ درحقیقت ڈیڈ آن ارائیول ہے، 6,500 ارب روپے کا خسارہ بتایا گیا ہے، جس میں سے 3,000 ارب پرائیویٹ بینکوں سے قرض لیا جائے گا۔ صنعت و محنت کشوں کو کہاں سے ریلیف ملے گا؟
عمر ایوب نے مزید کہا کہ محض 55 کروڑ روپے خیبرپختونخوا کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جو انتہائی ناانصافی ہے، موجودہ بجٹ نے ملک میں بینک مالکان کو کھرب پتی بنانے کی بنیاد رکھی ہے، جبکہ عام آدمی اور کاروباری طبقہ مزید دباؤ کا شکار ہو گا۔
عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے ملک پر واجب الادا سود کی رقم مزید بڑھے گی، اور حکومت کو آنے والے مہینوں میں شدید مالی دباؤ کا سامنا ہو گا۔
اپوزیشن لیڈر نے واضح کہا کہ وہ اس بجٹ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ایوان کے اندر اور باہر بھرپور مزاحمت جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔