جدہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 جون 2025ء) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے خصوصی اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ مسلم دنیا کو متحد ہو کر مشرقِ وسطیٰ میں انسانی جانوں کے تحفظ، خطے کے استحکام اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے ضمیر اور عالمی برادری کی ساکھ کا امتحان ہے۔

اسحاق ڈار نے زور دیا کہ بے گناہ شہریوں کا قتل عام فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور او آئی سی کو اپنی اجتماعی آواز اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ اجلاس میں پاکستان کی مستقل نمائندگی کرنے والے سفیر فواد شیر بھی شریک ہیں، جنہوں نے اجلاس کے دوران وزیر خارجہ کی معاونت کی۔

(جاری ہے)

او آئی سی کا یہ خصوصی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہا ہے، جہاں 57 مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر غور کر رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کو غیرقانونی اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی اسرائیل کو کھلی جارحیت کا ذمے دار ٹھہرایا اور مسلم ممالک سے مؤثر اور یکجا ردعمل کا مطالبہ کیا۔شرکاء نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی نازک اور خطرناک قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اسحاق ڈار

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف