امریکا نے ایران کی زیر تعمیر جوہری تنصیبات تباہ کرنے کی صلاحیت کے حامل بی-2 بمبار بحرالکاہل منتقل کردیے
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے بنکروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اپنے بی-2 اسٹیلتھ بمباروں کو مغربی بحرالکاہل میں موجود گوام نامی جزیرہ منتقل کردیا ہے۔
امریکی سرکاری حکام نے رائٹرز کو طیاروں کی اس نقل و حرکت کی تصدیق کی ہے، مگر یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ قدم مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے تنازع سے متعلق ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل کے تہران میں میزائل ذخائر اور فوجی تنصیبات پر حملے، ایران نے جوابی میزائل داغ دیے
بی-2 بمبار کو 30 ہزار پاؤنڈ وزنی جی بی یو-57 میسیو آرڈیننس پینٹریٹر کے ساتھ لیس کیا جا سکتا ہے، جنہیں ایران کے زیرِ زمین جوہری ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی واحد ہتھیار ایران کے نیوکلیئر پروگرام خاص طور پر ‘فوردو’ نامی زیر زمین ایٹمی تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جسے حالیہ تنازع میں اسرائیل نقصان پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل خود سے ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات کو تباہ نہیں کرسکتا۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ابھی کوئی حتمی حکم نہیں دیا گیا کہ بی-2 بمبار کو گوام سے آگے بھیجا جائے۔
دوسری طرف پینٹاگون کی طرف سے طیاروں کی اس نقل وحرکت پر فوری ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکی فضائیہ ایران بی 2 بمبار جہاز جوہری تنصیب فوردو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی فضائیہ ایران جہاز جوہری تنصیب فوردو
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔