اپنے میزائل ٹیسٹ کرنے کیلئے ہمسائے(ایران) کو دیدیں، سعد رضوی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
ٹی ایل پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران کے بعد آپ کی باری ہے، ہمیں اپنے دفاع کیلئے قدم بڑھانا چاہیئے، وہ جو (میزائل) رکھے ہوئے ہیں، انہیں چلا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے جو میزائل بنائے تھے، وہ چلا کر ٹیسٹ کر لیں، اگر آپ ٹیسٹ نہیں کر سکتے تو ساتھ والے ہمسائے (ایران) کو دیدیں، وہ اپنے میزائل چلا تو رہا ہے، ساتھ میں یہ بھی چلا کر ٹیسٹ کرلے گا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں سے کبھی راضی نہیں ہو سکتے، یہاں تک کہ تم اسلام چھوڑ کر کفر میں داخل نہ ہو جائیں، یہ تم سے کبھی راضی نہیں ہو سکتے، امریکہ ہم سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ سعد رضوی نے کہا کہ یاد رکھنا، ایران کے بعد آپ کی باری ہے، ہمیں اپنے دفاع کیلئے قدم بڑھانا چاہیئے، وہ جو (میزائل) رکھے ہوئے ہیں، انہیں چلا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے جو میزائل بنائے تھے، وہ چلا کر ٹیسٹ کر لیں، اگر آپ ٹیسٹ نہیں کر سکتے تو ساتھ والے ہمسائے (ایران) کو دیدیں، وہ اپنے میزائل چلا تو رہا ہے، ساتھ میں یہ بھی چلا کر ٹیسٹ کرلے گا۔
ٹی ایل پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ غزنوی بھی چلوا لیں، غوری بھی چیک کر لیں۔ چلیں تو سہی تل ابیب پر جاکر گریں، ہمسایوں کا بھی حق ہوتا ہے، دو چار میزائل انہیں بھی دیدیں، تاکہ وہ بھی تل ابیب پر چلا دیں۔ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، لیکن اس کیلئے اگر ہم ہمسایوں کو ساتھ مل لیں تو یہ اور زیادہ مضبوط ہو جائے گا، کیونکہ یہود و نصاریٰ نے ہمیں دھوکہ دینا ہے، انہیں ہمارا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہے، وہ کسی طور یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی مسلمان ملک ایٹمی قوت ہو، اس لئے ہمیں ان اسلام دشمن استعماری قوتوں سے ہوشیار رہنا ہوگا، یہ دوست بنا کر بھی ڈستے ہیں اور دشمن بنا کر بھی مارتے ہیں تو بہتر ہے کہ دشمن بن کر ان کا مقابلہ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چلا کر ٹیسٹ کر نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔