ٹی ایل پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایران کے بعد آپ کی باری ہے، ہمیں اپنے دفاع کیلئے قدم بڑھانا چاہیئے، وہ جو (میزائل) رکھے ہوئے ہیں، انہیں چلا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے جو میزائل بنائے تھے، وہ چلا کر ٹیسٹ کر لیں، اگر آپ ٹیسٹ نہیں کر سکتے تو ساتھ والے ہمسائے (ایران) کو دیدیں، وہ اپنے میزائل چلا تو رہا ہے، ساتھ میں یہ بھی چلا کر ٹیسٹ کرلے گا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی نے کہا ہے کہ اللہ کا حکم ہے کہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں سے کبھی راضی نہیں ہو سکتے، یہاں تک کہ تم اسلام چھوڑ کر کفر میں داخل نہ ہو جائیں، یہ تم سے کبھی راضی نہیں ہو سکتے، امریکہ ہم سے کبھی راضی نہیں ہوگا۔ سعد رضوی نے کہا کہ یاد رکھنا، ایران کے بعد آپ کی باری ہے، ہمیں اپنے دفاع کیلئے قدم بڑھانا چاہیئے، وہ جو (میزائل) رکھے ہوئے ہیں، انہیں چلا دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے جو میزائل بنائے تھے، وہ چلا کر ٹیسٹ کر لیں، اگر آپ ٹیسٹ نہیں کر سکتے تو ساتھ والے ہمسائے (ایران) کو دیدیں، وہ اپنے میزائل چلا تو رہا ہے، ساتھ میں یہ بھی چلا کر ٹیسٹ کرلے گا۔

ٹی ایل پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ غزنوی بھی چلوا لیں، غوری بھی چیک کر لیں۔ چلیں تو سہی تل ابیب پر جاکر گریں، ہمسایوں کا بھی حق ہوتا ہے، دو چار میزائل انہیں بھی دیدیں، تاکہ وہ بھی تل ابیب پر چلا دیں۔ سعد رضوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، لیکن اس کیلئے اگر ہم ہمسایوں کو ساتھ مل لیں تو یہ اور زیادہ مضبوط ہو جائے گا، کیونکہ یہود و نصاریٰ نے ہمیں دھوکہ دینا ہے، انہیں ہمارا ایٹمی پروگرام کھٹکتا ہے، وہ کسی طور یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کوئی مسلمان ملک ایٹمی قوت ہو، اس لئے ہمیں ان اسلام دشمن استعماری قوتوں سے ہوشیار رہنا ہوگا، یہ دوست بنا کر بھی ڈستے ہیں اور دشمن بنا کر بھی مارتے ہیں تو بہتر ہے کہ دشمن بن کر ان کا مقابلہ کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چلا کر ٹیسٹ کر نے کہا

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان