Express News:
2026-06-03@05:20:20 GMT

چو مکھی میں پھنسا ہوا امریکا

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ غزہ کے بے گھر اور در بدر ہونے والے خاندان اپنی بے کسی پر اور معصوم بچوں کے لاشے اٹھانے والے ماں باپ حماس اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور غزہ کے قتل و غارت پر اسرائیل کے قہر کا ساتھی حماس کو بھی سمجھ رہے ہوں گے،جب کہ بے گھر ہونے اور جوان لاشے اٹھانے والوں کی نظر میں اسرائیلی ظلم اور بمباری کے مجرم حماس اور اسرائیل ایک ہی صف میں کھڑے نظر آرہے ہوں گے۔

حماس کے ضمن میں یہ بات یاد رہے کہ 1986 میں امریکا نے فلسطین کی مضبوط ’’الفتح تنظیم‘‘ کو کمزور کرنے کے لیے شیخ یاسین کی سربراہی میں اپنی پراکسی حماس کو مذہبی بنیاد پر کھڑا کیا تھا،مگر پھر وقت اور حالات کے جبر نے الفتح تنظیم کو امریکا کی بہترین اتحادی بنا دیا،جس کے بعد فلسطین کے امور میں حماس کی وہ اہمیت و حیثیت نہ رہی جو 90 کے عشرے تک رہی۔

اسی وجہ سے فلسطین کی آزادی کی جنگ میں حماس نے الفتح کے اقتدار کے خلاف مذہبی بنیاد پر اختلاف کیا اور دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ امریکا کی پراکسی نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی فلسطین کے مفادات کی تنظیم ہے۔

مگر فلسطین کے حالات اور اسرائیلی بربریت نے ثابت کیا کہ امریکا/اسرائیل گٹھ جوڑ نے اسماعیل ہانیہ کی حماس میں ایک متبادل قیادت ابھار کر اسے اپنی پراکسی بنایا اور پھر حماس اسی پراکسی کے ذریعے اسرائیل کی مدد سے اسماعیل ہانیہ سمیت لبنان کے حزب اسلامی کے سربراہ نصراللہ،ایرانی کمانڈر باقر اور ایرانی صدر رئیسی کا خاتمہ کرکے مشرق وسطیٰ میں نہ صرف اسرائیل کی بالادستی کو مضبوط کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایران کی دفاعی اور خفیہ صلاحیتوں پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ 

اور اسرائیل کو فلسطین و غزہ کی طرح ایران پر حملہ کرنے کے مواقعے بھی فراہم کیے،جب کہ اسی اثنا ایران میں اسرائیل اور بھارت کے نیٹ ورک کے ذریعے موساد کا ایران میں اثر و نفوذ بھی بڑھایا،جس نے اسرائیل کو ایران کے خلاف نیو کلیئر بم رکھنے کے بہانے ایران پرحملہ کرنے کا جواز بھی فراہم کیا۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ایران پہلے ہی جوہری ہتھیار نہ بنانے کے NPTمعاہدے اور IAEA کے معائنے کرنے کی دستاویز پر عمل پیرا ہوکر عالمی طاقتوں سے جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات کے لیے راضی بھی تھا اور اسرائیل کے حملے سے پہلے امریکا سے مذاکرات کرنے کا دن اور تاریخ بھی طے کر چکا تھا،سوال یہ ہے کہ پھر اسرائیل نے تماتر مثبت اشاروں کی موجودگی میں بھی اچانک ایران پر کیوں حملہ کیا اور اس کے اعلیٰ فوجی جنرل اور سائنسدانوں کو کس لیے مارا؟اسرائیل کی جانب سے حملہ آور ہونے کی یہ کوشش کیوں ہوئی یا اس کے مقاصد کیا رہے یا ابھی تک ہیں؟

اس مذکورہ حملے اور اس کے مقاصد پر دنیا بھر میں خیال آرائی اور جائزے پیش کیے جارہے ہیں،کچھ کا خیال ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ بہت زیادہ جلدی میں ہیں،کسی کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے کے بیان کے بعد اسرائیل اس جنگ کو امریکی آشیرباد کے سہارے جاری رکھنے کی کوشش ایران کی رجیم چینج کی وجہ سے کر رہا ہے جب کہ کچھ کی رائے ہے کہ امریکا اور اسرائیل مشرق وسطی کو کمزور کرنے کے بعد اپنی بالا دستی وسط ایشیائی خطے پر حاصل کرنا چاہتا ہے جس کا فائدہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ امریکا کو اپنی عالمی ساکھ قائم رکھنے کا ہوسکتا ہے یا کہ امریکا چین اور روس کے اثر کو خطے سے مکمل ختم کرکے خطے میں امریکی بالادستی چاہنے کے علاوہ امریکا چین کی مضبوط عالمی معیشت کو نقصان پہنچا کر اس خطے کو مکمل اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔

ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں جنگ رکوانے کی کوششوں میں عالمی طور پر اکثریت روس اور چین کے موقف کے ساتھ ہے جس کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ مسائل کا حل سفارتی سطح پر طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے جس کی ایک کڑی جینوا میں فرانس ،جرمنی ،برطانیہ اور ایران کا انسانی حقوق سلامتی کونسل اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے کا مشترکہ لائحہ عمل ہے۔

انسانی حقوق کونسل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کا موقف رکھتے ہوئے کہا ہے کہ’’ہم اسرائیل کی بلا جواز جارحیت کا شکار ہیں جس میں ہم نے اپنے پیاروں کی قیمتی جانیں گنوائی ہیں،ہم جنگ نہیں چاہتے مگر اسرائیل کی سفاکانہ اور بلا جواز جارحیت کو بھی قبول نہیں کریں گے اور اسرائیلی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے،عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھوایا جائے،ہم پہلے بھی مذاکرات سے حل پر آمادہ تھے اور اب بھی ہم جوہری اور علاقائی مسئلے مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ کے مذکورہ بیان کو روس اور چین کے موقف کا پرتو کہا جاسکتا ہے،اس سے قبل اسرائیل کے نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ ایران کے سپریم کمانڈر کو قتل کرنے کے بیان پر اکٹھے تھے،پھرامریکا اور اسرائیل رجیم چینج پر ایک آواز ہوئے جب کہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں اب امریکا اور اسرائیل نہ سپریم کمانڈر کے قتل پر آمادہ نظر آتے ہیں اور نہ رجیم چینج پر ایک آواز ہیں،جب کہ دوسری جانب امریکا کے اس جنگ میں شامل ہونے کی بڑھکیں بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔

جب کہ ایران کی رجیم چینج کی جب سے مخالفت ایران کی سب سے طاقتور اپوزیشن ’’تودہ پارٹی/کمیونسٹ پارٹی‘‘ روس اور چین کی جانب سے ہوئی ہے تو امریکا اور اسرائیل ایران کی یکجہتی اور تودہ پارٹی کے اصولی موقف کی روشنی میں کم از کم رجیم چینج کے بے سروپا مطالبے پر ٹکتے نظر نہیں آتے،اس میں اس خیال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی حماقت سے اقتدار تودہ پارٹی یا گرین تحریک کے ریفارمسٹ کی جانب نہ چلا جائے یا ان کے حوالے کر دیا جائے۔

اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے خلاف دنیا کی اکثریت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جنرل سیکریٹری نے واضح طور پر کہا ہے کہ’’ہم دنیا کو امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں اور خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ایران اسرائیل کا تنازعہ بڑھا تو پھر یہ کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں رہے گا‘‘ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے ماحول میں ایرانی عوام کی یکجہتی امریکا کے لیے ایران کی موجودہ حکومت سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔

جب کہ عالمی برادری خطے میں امریکا اسرائیل کے کردار اور گٹھ جوڑ کو سمجھتی ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر امریکا عالمی مخالفت کو سر دست اپنے حصے میں ڈال کر ویتنام کی شکست کو شاید دہرانا نہیں چاہتااور شاید یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون اور امریکی کانگریس کے بیشتر ارکان اس جنگ میں امریکا کی براہ راست مداخلت کے حق میں نہیں ہیں اور اسی کے ساتھ امریکا کے سامنے چین کی مضبوط معیشت کو کمزور کرنے کا خواب،ایران کی رجیم چینج،ایران کی یکجہتی ختم کرنے یا ایران کے سپریم کمانڈر کا قتل ایسے مشکل اہداف ہیں جن میں سے وہ فوری طور سے نکل کر اپنی عالمی ساکھ بچاناچاہتا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا پہ اس چومکھی کشمکش کے لالوں کے اثرات کتنے گلے پڑتے ہیں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل اسرائیل کے اسرائیل کی رجیم چینج کہ امریکا ایران کی ایران پر ایران کے کہ ایران کے ساتھ کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان