Express News:
2026-07-24@03:46:36 GMT

چو مکھی میں پھنسا ہوا امریکا

اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ غزہ کے بے گھر اور در بدر ہونے والے خاندان اپنی بے کسی پر اور معصوم بچوں کے لاشے اٹھانے والے ماں باپ حماس اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور غزہ کے قتل و غارت پر اسرائیل کے قہر کا ساتھی حماس کو بھی سمجھ رہے ہوں گے،جب کہ بے گھر ہونے اور جوان لاشے اٹھانے والوں کی نظر میں اسرائیلی ظلم اور بمباری کے مجرم حماس اور اسرائیل ایک ہی صف میں کھڑے نظر آرہے ہوں گے۔

حماس کے ضمن میں یہ بات یاد رہے کہ 1986 میں امریکا نے فلسطین کی مضبوط ’’الفتح تنظیم‘‘ کو کمزور کرنے کے لیے شیخ یاسین کی سربراہی میں اپنی پراکسی حماس کو مذہبی بنیاد پر کھڑا کیا تھا،مگر پھر وقت اور حالات کے جبر نے الفتح تنظیم کو امریکا کی بہترین اتحادی بنا دیا،جس کے بعد فلسطین کے امور میں حماس کی وہ اہمیت و حیثیت نہ رہی جو 90 کے عشرے تک رہی۔

اسی وجہ سے فلسطین کی آزادی کی جنگ میں حماس نے الفتح کے اقتدار کے خلاف مذہبی بنیاد پر اختلاف کیا اور دنیا کو یہ تاثر دیا کہ وہ امریکا کی پراکسی نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنے والی فلسطین کے مفادات کی تنظیم ہے۔

مگر فلسطین کے حالات اور اسرائیلی بربریت نے ثابت کیا کہ امریکا/اسرائیل گٹھ جوڑ نے اسماعیل ہانیہ کی حماس میں ایک متبادل قیادت ابھار کر اسے اپنی پراکسی بنایا اور پھر حماس اسی پراکسی کے ذریعے اسرائیل کی مدد سے اسماعیل ہانیہ سمیت لبنان کے حزب اسلامی کے سربراہ نصراللہ،ایرانی کمانڈر باقر اور ایرانی صدر رئیسی کا خاتمہ کرکے مشرق وسطیٰ میں نہ صرف اسرائیل کی بالادستی کو مضبوط کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایران کی دفاعی اور خفیہ صلاحیتوں پر بھی سوالات کھڑے کیے۔ 

اور اسرائیل کو فلسطین و غزہ کی طرح ایران پر حملہ کرنے کے مواقعے بھی فراہم کیے،جب کہ اسی اثنا ایران میں اسرائیل اور بھارت کے نیٹ ورک کے ذریعے موساد کا ایران میں اثر و نفوذ بھی بڑھایا،جس نے اسرائیل کو ایران کے خلاف نیو کلیئر بم رکھنے کے بہانے ایران پرحملہ کرنے کا جواز بھی فراہم کیا۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ ایران پہلے ہی جوہری ہتھیار نہ بنانے کے NPTمعاہدے اور IAEA کے معائنے کرنے کی دستاویز پر عمل پیرا ہوکر عالمی طاقتوں سے جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات کے لیے راضی بھی تھا اور اسرائیل کے حملے سے پہلے امریکا سے مذاکرات کرنے کا دن اور تاریخ بھی طے کر چکا تھا،سوال یہ ہے کہ پھر اسرائیل نے تماتر مثبت اشاروں کی موجودگی میں بھی اچانک ایران پر کیوں حملہ کیا اور اس کے اعلیٰ فوجی جنرل اور سائنسدانوں کو کس لیے مارا؟اسرائیل کی جانب سے حملہ آور ہونے کی یہ کوشش کیوں ہوئی یا اس کے مقاصد کیا رہے یا ابھی تک ہیں؟

اس مذکورہ حملے اور اس کے مقاصد پر دنیا بھر میں خیال آرائی اور جائزے پیش کیے جارہے ہیں،کچھ کا خیال ہے کہ گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی تکمیل کے لیے امریکی صدر ٹرمپ بہت زیادہ جلدی میں ہیں،کسی کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے کے بیان کے بعد اسرائیل اس جنگ کو امریکی آشیرباد کے سہارے جاری رکھنے کی کوشش ایران کی رجیم چینج کی وجہ سے کر رہا ہے جب کہ کچھ کی رائے ہے کہ امریکا اور اسرائیل مشرق وسطی کو کمزور کرنے کے بعد اپنی بالا دستی وسط ایشیائی خطے پر حاصل کرنا چاہتا ہے جس کا فائدہ بھارت اور اسرائیل کے ساتھ امریکا کو اپنی عالمی ساکھ قائم رکھنے کا ہوسکتا ہے یا کہ امریکا چین اور روس کے اثر کو خطے سے مکمل ختم کرکے خطے میں امریکی بالادستی چاہنے کے علاوہ امریکا چین کی مضبوط عالمی معیشت کو نقصان پہنچا کر اس خطے کو مکمل اپنی کالونی بنانا چاہتا ہے۔

ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں جنگ رکوانے کی کوششوں میں عالمی طور پر اکثریت روس اور چین کے موقف کے ساتھ ہے جس کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ مسائل کا حل سفارتی سطح پر طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے جس کی ایک کڑی جینوا میں فرانس ،جرمنی ،برطانیہ اور ایران کا انسانی حقوق سلامتی کونسل اجلاس میں مذاکرات جاری رکھنے کا مشترکہ لائحہ عمل ہے۔

انسانی حقوق کونسل میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایران کا موقف رکھتے ہوئے کہا ہے کہ’’ہم اسرائیل کی بلا جواز جارحیت کا شکار ہیں جس میں ہم نے اپنے پیاروں کی قیمتی جانیں گنوائی ہیں،ہم جنگ نہیں چاہتے مگر اسرائیل کی سفاکانہ اور بلا جواز جارحیت کو بھی قبول نہیں کریں گے اور اسرائیلی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے،عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھوایا جائے،ہم پہلے بھی مذاکرات سے حل پر آمادہ تھے اور اب بھی ہم جوہری اور علاقائی مسئلے مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

ایران کے وزیر خارجہ کے مذکورہ بیان کو روس اور چین کے موقف کا پرتو کہا جاسکتا ہے،اس سے قبل اسرائیل کے نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ ایران کے سپریم کمانڈر کو قتل کرنے کے بیان پر اکٹھے تھے،پھرامریکا اور اسرائیل رجیم چینج پر ایک آواز ہوئے جب کہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں اب امریکا اور اسرائیل نہ سپریم کمانڈر کے قتل پر آمادہ نظر آتے ہیں اور نہ رجیم چینج پر ایک آواز ہیں،جب کہ دوسری جانب امریکا کے اس جنگ میں شامل ہونے کی بڑھکیں بھی آہستہ آہستہ دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔

جب کہ ایران کی رجیم چینج کی جب سے مخالفت ایران کی سب سے طاقتور اپوزیشن ’’تودہ پارٹی/کمیونسٹ پارٹی‘‘ روس اور چین کی جانب سے ہوئی ہے تو امریکا اور اسرائیل ایران کی یکجہتی اور تودہ پارٹی کے اصولی موقف کی روشنی میں کم از کم رجیم چینج کے بے سروپا مطالبے پر ٹکتے نظر نہیں آتے،اس میں اس خیال کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کہ امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی حماقت سے اقتدار تودہ پارٹی یا گرین تحریک کے ریفارمسٹ کی جانب نہ چلا جائے یا ان کے حوالے کر دیا جائے۔

اسرائیل کی ایران پر جارحیت کے خلاف دنیا کی اکثریت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جنرل سیکریٹری نے واضح طور پر کہا ہے کہ’’ہم دنیا کو امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں اور خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ ایران اسرائیل کا تنازعہ بڑھا تو پھر یہ کسی کے بھی کنٹرول میں نہیں رہے گا‘‘ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے ماحول میں ایرانی عوام کی یکجہتی امریکا کے لیے ایران کی موجودہ حکومت سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔

جب کہ عالمی برادری خطے میں امریکا اسرائیل کے کردار اور گٹھ جوڑ کو سمجھتی ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر امریکا عالمی مخالفت کو سر دست اپنے حصے میں ڈال کر ویتنام کی شکست کو شاید دہرانا نہیں چاہتااور شاید یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون اور امریکی کانگریس کے بیشتر ارکان اس جنگ میں امریکا کی براہ راست مداخلت کے حق میں نہیں ہیں اور اسی کے ساتھ امریکا کے سامنے چین کی مضبوط معیشت کو کمزور کرنے کا خواب،ایران کی رجیم چینج،ایران کی یکجہتی ختم کرنے یا ایران کے سپریم کمانڈر کا قتل ایسے مشکل اہداف ہیں جن میں سے وہ فوری طور سے نکل کر اپنی عالمی ساکھ بچاناچاہتا ہے،اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا پہ اس چومکھی کشمکش کے لالوں کے اثرات کتنے گلے پڑتے ہیں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل اسرائیل کے اسرائیل کی رجیم چینج کہ امریکا ایران کی ایران پر ایران کے کہ ایران کے ساتھ کرنے کے کے لیے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران