Express News:
2026-06-03@03:02:41 GMT

ایلون مسک اور ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریاتی فاصلے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

دنیا کے طاقتور ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی شخصیات بے مثال اور اثر و رسوخ سے بھرپور ہیں۔ ایک طرف ایلون مسک، جو خلا، مصنوعی ذہانت اور ماحول دوست توانائی کے ذریعے انسانیت کو مستقبل کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ، جو قوم پرستی، صنعتی ترقی اور امریکی برتری کے نعرے کے ساتھ روایتی سیاسی دائرہ کار میں تبدیلی کے خواہاں رہے۔

ان دونوں شخصیات کا ایک وقت میں تعلقات کا آغاز قربت اور مشورے سے ہوا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درمیان نظریاتی اور عملی فاصلے پیدا ہو گئے۔ جب 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر متوقع طور پر امریکی صدارتی انتخاب جیتا، تو دنیا بھر میں اس فیصلے پر بحث چھڑ گئی۔

بیشتر ماہرین اور ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد نے اس انتخاب پر تشویش کا اظہار کیا، مگر ایلون مسک نے اس وقت ایک مختلف روش اپنائی۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت میں مثبت تبدیلی لانی ہے تو باہر بیٹھ کر تنقید کرنے کے بجائے اندر آ کر بات چیت کرنا بہتر ہے۔

یہی سوچ انھیں ٹرمپ کی اکنامک ایڈوائزری کونسل اور مینوفیکچرنگ گروپ تک لے گئی۔ بظاہر یہ ایک مثبت شروعات تھی، مگر اختلاف کی چنگاری جلد ہی شعلہ بن گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کو پیرس کلائمیٹ ایگریمنٹ سے علیحدہ کر لیا یہ ایک عالمی معاہدہ تھا جس کا مقصد زمین پر بڑھتی ہوئی درجہ حرارت کو قابو میں رکھنا تھا۔

ایلون مسک نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ صرف سائنسی بنیادوں پر غلط نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی تباہ کن تھا۔ انھوں نے فوراً ٹرمپ کی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دے دیا اور ٹویٹر پر لکھا۔ ’’میں نے پوری کوشش کی، مگر ماحولیات کے تحفظ کے بغیر مزید مشورے نہیں دے سکتا۔‘‘ یہ استعفیٰ نہ صرف ایک علامتی قدم تھا بلکہ نظریاتی موقف کی واضح مثال بھی ثابت ہوا تھا ۔

2022 میں ایلون مسک نے Twitter (اب X) خرید لیا۔ ان کے بقول ان کا مقصد سوشل میڈیا کو مکمل ’’ آزادی اظہار‘‘ کا پلیٹ فارم بنانا تھا۔ اس تناظر میں انھوں نے سابق صدر ٹرمپ کا بند کیا گیا، اکاؤنٹ بحال کیا، جو 2021 کے Capitol Hill حملے کے بعد معطل کردیا گیا تھا۔

مسک نے کہا ’’ اگر ہم آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں تو ہمیں ہر کسی کو بولنے دینا ہوگا، چاہے ہمیں اس کی بات پسند ہو یا نہیں۔‘‘ لیکن ٹرمپ نے اس کے باوجود ٹوئٹر پر واپسی سے انکار کر دیا اور اپنی سوشل میڈیا سائٹ Truth Social کو ترجیح دی۔

یہ عمل واضح کرتا ہے کہ جہاں مسک سوشل میڈیا کو مکالمے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہاں ٹرمپ اسے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

2024 کی صدارتی مہم میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ ٹرمپ نے ایک جلسے میں ایلون مسک کو ’’دھوکا باز‘‘ کہا اور دعویٰ کیا کہ مسک نے ان سے مختلف معاملات پر مدد مانگی تھی۔ اس کے جواب میں ایلون مسک نے نہایت وقار کے ساتھ بیان دیا۔ ’’ ٹرمپ ایک دلچسپ شخصیت ہیں، مگر میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کو ایک نئی نسل کی قیادت کی ضرورت ہے۔‘‘

یہ بیان صرف ذاتی اختلاف نہیں، بلکہ دو نظریاتی نظاموں کے بیچ خلیج کا اظہار ہے۔

ٹرمپ اور ایلون مسک تنازع میں سب سے بڑا نقصان خود ایلون مسک کو ہی ہوا ہے، جس کی دولت محض ایک دن میں 34 ارب ڈالر سے زیادہ کم ہو گئی ہے۔

گزشتہ سال صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی کامیابی کے بعد مسک کی دولت تقریباً 500 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی اور دونوں کی قربت کو ’’سنہری دن‘‘ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن حالیہ اختلاف اور باہمی الزام تراشی کے بعد الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ’’ ٹیسلا‘‘ کو 152 ارب ڈالر کا تاریخی نقصان ہوا۔

سوال ہے کہ اس لڑائی کا نتیجہ کیا ہوگا؟ کانگریس میں موجود ریپبلکنز کے لیے ٹرمپ کے بل کی حمایت کرنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ مسک ان کی مالی معاونت کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے پہلے ہی مسک کے سرکاری معاہدوں کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ڈیموکریٹس اس ساری صورتحال میں یہ سوچ رہے کہ وہ اس پرکیا اور کیسے ردعمل دیں۔ کچھ ڈیمو کریٹس مسک کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں، تاکہ اپنی پارٹی کے لیے ایک فنڈز فراہم کرنے والے کو واپس لے آئیں، مگر فی الوقت ڈیمو کریٹس پیچھے رہ کر دونوں کو آپس میں لڑتا دیکھ کر خوش نظر آتے ہیں۔

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے پاکستان میں انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی درخواست دی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اس درخواست پر غور شروع کیا ہے، لیکن ابھی تک مکمل منظوری نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ مسک کے حالیہ متنازعہ بیانات ہیں، جو اس نے پاکستان کی مخالفت میں دیے ہیں، جن سے پاکستان میں عوامی ردعمل آیا ہے۔

پاکستانی قانون سازوں نے مسک سے معافی کا مطالبہ کیا ہے، جس کے بغیر لائسنس جاری کرنے کا امکان کم ہے۔ ایلون مسک کے کہنے پر ہی ٹرمپ نے یو ایس ایڈ کی مد میں پاکستانی امداد کو روکا تھا۔

 ٹرمپ اور مسک کی راہیں بھی جدا ہوچکی ہیں، مگر ان دونوں شخصیات کے درمیان جاری سرد جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتدار، نظریات اور ذاتی مفادات کا ملاپ کبھی بھی سادہ یا مستقل نہیں ہوتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایلون مسک نے ڈونلڈ ٹرمپ

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا