Islam Times:
2026-07-24@12:32:54 GMT

او آئی سی کی ایران کی بھرپور حمایت

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

او آئی سی کی ایران کی بھرپور حمایت

اسلام ٹائمز: اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر خودمختار ریاست کو اپنی سرزمین کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی اور خونریزی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ غزہ کی مظلوم آبادی پر بھی بدستور بمباری جاری ہے، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک صیہونی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمہوری اسلامی ایران کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مسلم ممالک کی تنظیم کا اہم اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سمیت رکن ممالک کے 40 سے زائد وزرائے خارجہ اور سفارتکار شریک ہوئے۔ اس اہم اجلاس میں اسرائیلی جارحیت اور ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر غور کیا گیا، اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور اس کے ممکنہ نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق یہ اجلاس اسلامی دنیا کی مشترکہ پالیسی مرتب کرنے اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کے لیے بلایا گیا۔ دو روزہ اجلاس کے پہلے روز شرکائے اجلاس نے صیہونی جارحیت کو خطہ کے امن کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل نے اپنے اہم خطاب میں اسرائیل کی ایران اور غزہ پر جاری جارحیت کو کلی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ کے مطابق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر خودمختار ریاست کو اپنی سرزمین کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی اور خونریزی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ غزہ کی مظلوم آبادی پر بھی بدستور بمباری جاری ہے، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سیکریٹری جنرل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دوہرے معیار کو ترک کرے اور فلسطین، ایران اور دیگر متاثرہ مسلم اقوام کے ساتھ انصاف پر مبنی مؤقف اپنائے۔

او آئی سی نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے خلاف جاری صہیونی بربریت کو فوری طور پر روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں کیونکہ اس جارحیت کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں پڑ چکا ہے۔ قبل ازیں ترکی پہنچے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس پہلے سے طے شدہ تھا اور اسی تاریخ کو منعقد ہونا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں ایران پر غاصب صہیونی حکومت کی جارحیت کے پیشِ نظر ہم نے اس موضوع پر ایک خصوصی اجلاس کی درخواست کی، جو قبول کر لی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس اجلاس کے اختتام پر ایک مؤثر اور مضبوط بیان جاری کیا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وہ دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور ترک صدر سے ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔

عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایران کے مظلوم عوام کی آواز سننی چاہیے اور ان کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے، ایران کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق ہے۔ اسرائیل نے 15 جون کو ہونے والے مذاکرات سے 2 روز قبل ایران پر حملہ کیا، اسرائیلی حملے سے ظاہر ہے کہ وہ سفارتکاری کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس برائے وزرائے خارجہ میں اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران پر اسرائیلی حملے اور جارحیت کی مذمت کرتا ہے، اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ، خطے اور دنیا کا امن خطرے سے دو چار ہے۔ اسرائیل دہشت گردی پھیلا رہا ہے، غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور ہزاروں خواتین و بچے شہید ہوچکے ہیں۔ پاکستان اسرائیل کے ایران مخالف اور غزہ میں جاری مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت  اور فلسطین و ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی  کا اظہار اور اُن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

نائب وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اسرائیل کے اقدامات کی وجہ سے تشویشناک ہوگئی ہے اور وہ عالمی قوانین کو روندتے ہوئے بربریت کررہا ہے۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ امید ہے حالیہ تنازع اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں او آئی سی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو اس وقت مختلف چیلنجز درپش ہیں جن سے نمٹنے کیلیے تمام مسلم ممالک کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی روک تھام کیلیے ہم سب کو اقدامات کرنا ہوں گے، درپیش چیلنجز کو مل کر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی جس پر ہم نے جواب دیا،  اسپانسرڈ دہشت گردی کی پاکستان نے ہمیشہ مخالفت کی جبکہ بھارت اور اسرائیل اس گھناؤنے کام میں ملوث ہے۔ ان کے علاوہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اتحاد اور یکجہتی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ امت مسلمہ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اردوان نے کہا کہ ہم نے متحد ہو کر دنیا کو پیغام دیا کہ ہم امن کے داعی ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے فیصلے صرف امت کے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے حق میں ہوں گے۔ انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے اور مغربی طاقتیں کھلے عام اسرائیل کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مسلسل خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے اور قتل و نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جو پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ صدر اردوان نے  کہا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانا ہوگا، ہمیں یقین ہے کہ فتح ایران کا مقدر ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران مشکل وقت سے ضرور نکلے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، کیونکہ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی قوانین اسلامی تعاون تنظیم سیکریٹری جنرل نے کے سیکریٹری جنرل اسرائیلی جارحیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ الفاظ میں مذمت کہا کہ اسرائیل اور اسرائیل میں اسرائیل اقوام متحدہ مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف ورزی دیتے ہوئے ایران اور کہا کہ اس ایران کی ایران پر ایران کے اجلاس کے تنظیم کے کے خلاف خطے کو ہے اور اور اس

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی