او آئی سی کی ایران کی بھرپور حمایت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر خودمختار ریاست کو اپنی سرزمین کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی اور خونریزی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ غزہ کی مظلوم آبادی پر بھی بدستور بمباری جاری ہے، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ رپورٹ: سید عدیل عباس
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک صیہونی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جمہوری اسلامی ایران کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مسلم ممالک کی تنظیم کا اہم اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں منعقد ہوا، جس میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سمیت رکن ممالک کے 40 سے زائد وزرائے خارجہ اور سفارتکار شریک ہوئے۔ اس اہم اجلاس میں اسرائیلی جارحیت اور ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر غور کیا گیا، اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور اس کے ممکنہ نتائج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ الجزیرہ کے مطابق یہ اجلاس اسلامی دنیا کی مشترکہ پالیسی مرتب کرنے اور اسرائیلی اقدامات کی مذمت کے لیے بلایا گیا۔ دو روزہ اجلاس کے پہلے روز شرکائے اجلاس نے صیہونی جارحیت کو خطہ کے امن کیلئے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مسلم ممالک کو متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل نے اپنے اہم خطاب میں اسرائیل کی ایران اور غزہ پر جاری جارحیت کو کلی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ کے مطابق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر خودمختار ریاست کو اپنی سرزمین کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ انہوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جانا ضروری ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی اور خونریزی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا دائرہ صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ غزہ کی مظلوم آبادی پر بھی بدستور بمباری جاری ہے، جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سیکریٹری جنرل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دوہرے معیار کو ترک کرے اور فلسطین، ایران اور دیگر متاثرہ مسلم اقوام کے ساتھ انصاف پر مبنی مؤقف اپنائے۔
او آئی سی نے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کے خلاف جاری صہیونی بربریت کو فوری طور پر روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں کیونکہ اس جارحیت کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں پڑ چکا ہے۔ قبل ازیں ترکی پہنچے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس پہلے سے طے شدہ تھا اور اسی تاریخ کو منعقد ہونا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں ایران پر غاصب صہیونی حکومت کی جارحیت کے پیشِ نظر ہم نے اس موضوع پر ایک خصوصی اجلاس کی درخواست کی، جو قبول کر لی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس اجلاس کے اختتام پر ایک مؤثر اور مضبوط بیان جاری کیا جائے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وہ دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ، تنظیم کے سیکریٹری جنرل اور ترک صدر سے ملاقاتیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کا مقصد ایران کے مؤقف کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنا ہے۔
عراقچی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ایران کے مظلوم عوام کی آواز سننی چاہیے اور ان کے اپنے دفاع کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے، ایران کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق ہے۔ اسرائیل نے 15 جون کو ہونے والے مذاکرات سے 2 روز قبل ایران پر حملہ کیا، اسرائیلی حملے سے ظاہر ہے کہ وہ سفارتکاری کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس برائے وزرائے خارجہ میں اسرائیل کو دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے ایران پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران پر اسرائیلی حملے اور جارحیت کی مذمت کرتا ہے، اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے مشرق وسطیٰ، خطے اور دنیا کا امن خطرے سے دو چار ہے۔ اسرائیل دہشت گردی پھیلا رہا ہے، غزہ میں نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور ہزاروں خواتین و بچے شہید ہوچکے ہیں۔ پاکستان اسرائیل کے ایران مخالف اور غزہ میں جاری مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت اور فلسطین و ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار اور اُن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
نائب وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اسرائیل کے اقدامات کی وجہ سے تشویشناک ہوگئی ہے اور وہ عالمی قوانین کو روندتے ہوئے بربریت کررہا ہے۔ اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ امید ہے حالیہ تنازع اور اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں او آئی سی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو اس وقت مختلف چیلنجز درپش ہیں جن سے نمٹنے کیلیے تمام مسلم ممالک کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامو فوبیا کی روک تھام کیلیے ہم سب کو اقدامات کرنا ہوں گے، درپیش چیلنجز کو مل کر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی جس پر ہم نے جواب دیا، اسپانسرڈ دہشت گردی کی پاکستان نے ہمیشہ مخالفت کی جبکہ بھارت اور اسرائیل اس گھناؤنے کام میں ملوث ہے۔ ان کے علاوہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اتحاد اور یکجہتی کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ یہ امت مسلمہ کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اردوان نے کہا کہ ہم نے متحد ہو کر دنیا کو پیغام دیا کہ ہم امن کے داعی ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اجلاس کے فیصلے صرف امت کے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے حق میں ہوں گے۔ انہوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پر حملے کر رہا ہے اور مغربی طاقتیں کھلے عام اسرائیل کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل مسلسل خطے کو عدم استحکام کا شکار کر رہا ہے اور قتل و نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ نیتن یاہو کی حکومت خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جو پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔ صدر اردوان نے کہا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانا ہوگا، ہمیں یقین ہے کہ فتح ایران کا مقدر ہوگی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران مشکل وقت سے ضرور نکلے گا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کرے، کیونکہ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور بین الاقوامی قوانین اسلامی تعاون تنظیم سیکریٹری جنرل نے کے سیکریٹری جنرل اسرائیلی جارحیت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ الفاظ میں مذمت کہا کہ اسرائیل اور اسرائیل میں اسرائیل اقوام متحدہ مسلم ممالک اسرائیل کے خلاف ورزی دیتے ہوئے ایران اور کہا کہ اس ایران کی ایران پر ایران کے اجلاس کے تنظیم کے کے خلاف خطے کو ہے اور اور اس
پڑھیں:
جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد
کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔
اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔
ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔
اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔
بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔