ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی باتیں شروع، ایران پر حملے کے بعد امریکی صدر مشکل میں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
امریکی ایوانِ نمائندگان کی معروف ترقی پسند رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز (ڈیموکریٹ، نیویارک) نے ہفتے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے (Impeachment) کی تجویز پیش کی، جس کی وجہ ایران پر بغیر کانگریس کی منظوری کے حملہ کرنا ہے۔
????NEW: Rep. Alexandria Ocasio-Cortez calls for impeaching Trump after bombing Iran: “The President’s disastrous decision to bomb Iran without authorization is a grave violation of the Constitution and Congressional War Powers.
RETWEET if you stand with @AOC against Trump! pic.twitter.com/U1jUdBwVwh
— Protect Kamala Harris ✊ (@DisavowTrump20) June 22, 2025
اوکاسیو کورٹیز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا:
’صدر کا ایران پر بمباری کا فیصلہ تباہ کن ہے جو آئین اور کانگریس کے جنگی اختیارات کی سنگین خلاف ورزی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’صدر نے جلد بازی میں ایسی جنگ چھیڑنے کا خطرہ مول لیا ہے جو ہماری نسلوں کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہ بالکل واضح طور پر مواخذے کی بنیاد بن سکتی ہے‘۔
اوکاسیو کورٹیز کی مہم کی ٹیم نے اس بیان کے بعد فنڈ ریزنگ ای میل بھی بھیجا جس میں لکھا گیا کہ ’مزید تفصیلات جلد آئیں گی‘۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب زیادہ تر ڈیموکریٹس اس موضوع پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، اور جو چند اراکین نے ٹرمپ کے مواخذے کی بات کی ہے، جیسے شری تھانیڈر (مشکن) اور ال گرین (ٹیکساس) — انہیں پارٹی کے اندر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ممکنہ تباہ کن جنگایوانِ نمائندگان میں اقلیتی رہنما حکیم جیفریز (ڈیموکریٹ، نیویارک) نے بھی ٹرمپ کے یکطرفہ اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ نے فوجی طاقت کے استعمال کے لیے کانگریس کی منظوری لینے میں ناکام رہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ میں دھکیلنے کا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس یکطرفہ فوجی کارروائی کے تمام منفی نتائج کی مکمل ذمہ داری لینی ہوگی۔
ابھی تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے اوکاسیو کورٹیز کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز امریکی صدر ایران ٹرمپ مواخذہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ایران مواخذہ ٹرمپ کے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔