حکومت کا ٹرمپ کو نوبل پرائز کیلیے نامزد کرنا غلامانہ ذہنیت کا عکاس ہے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’’ ایکس‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کا سرپرست ہے، یہ ایران پر اسرائیل کے حملے کو شاندار کہتا ہے اور ایران کو براہ راست دھمکیاں دے رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکی بحری اڈے خطے میں پیش قدمی کر رہے ہیں، امریکا اسرائیل کو تمام جنگی سہولتیں دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے یوکرائن کی جنگ ختم نہیں کروائی بلکہ مزید آگ بھڑک رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل پرائز برائے امن کی نامزدگی کی سفارش کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس اقدام کو افسوسناک، قومی وقار کے منافی اور غلامانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ’’ ایکس‘‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام میں اسرائیل کا سرپرست ہے، یہ ایران پر اسرائیل کے حملے کو شاندار کہتا ہے اور ایران کو براہ راست دھمکیاں دے رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ امریکی بحری اڈے خطے میں پیش قدمی کر رہے ہیں، امریکا اسرائیل کو تمام جنگی سہولتیں دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے یوکرائن کی جنگ ختم نہیں کروائی بلکہ مزید آگ بھڑک رہی ہے۔ پورے مشرق وسطیٰ کا امن تباہ ہو رہا ہے اور حکومت امن کے نوبل پرائز کیلئے نامزد کرنے کی بات کر رہی ہے۔ یہ سب افسوسناک اور غلامانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔
دریں اثناء مری میں سوشل میڈیا کیمپ کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرے، بلوچستان کی محرمیاں دور کرے اور نوجوانوں کو سستی اور معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ جماعت اسلامی نے خطے کی صورتحال کے پیش نظر مہنگی بجلی اور آئی پی پیز معاہدوں کیخلاف تحریک کو موخر کیا ہے، جماعت اسلامی کی تحریک کے نتیجہ میں عوام میں آئی پی ہیز کے ظالمانہ معاہدوں کے بارے میں آگاہی آئی اور حکومت معاہدوں پر نظرثانی کیلئے تیار ہوئی۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ پورے نظام کی تبدیلی ضروری ہے اور اس کیلئے نوجوانوں کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ موجودہ نظام انصاف کی فراہمی میں ناکام ہوگیا ہے، گزشتہ 78برسوں سے اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی، جاگیردار مل کر یہ نظام چلا رہے ہیں۔ (ن) لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی میں ایک ہی طرح کے لوگ ہیں، انہوں نے مل کر سابقہ آرمی چیف کو مدت ملازمت میں توسیع دی اور یہ سبھی اپنی تنخواہوں میں اضافے کر رہے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نوجوان سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے اسلام کا پیغام عام کریں، فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی جائے۔ اسلامی نظام ہی انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی نے حافظ نعیم دے رہا ہے نے کہا کہ رہے ہیں ہے اور
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔