20 شاہراہوں پر چنگ چی بندش کا فیصلہ واپس لیا جائے، محمود حامد‘ نجیب ایوبی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250622-08-7
کراچی(اسٹاف رپورٹر) آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹری کراچی کے صدر محمود حامد اور جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری نجیب ایوبی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی چنگ چی رکشہ کے کاروبار سے وابستہ افراد کو بے روزگار نہیں ہونے دے گی اور ان پر جاری مظالم پر بھرپور احتجاج کرے گی، شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، حکومت نے سرکاری ریڈ اورپنک الیکٹرک بسوں کا کرایہ 50 روپے سے 120 روپے کردیا ہے ایسے موقع پر چنگ چی رکشوں کو 20 شاہراہوں پر بند کر دینا اور ان پر 50 اور 40 ہزار روپے کے چالان، ایف آئی آر اور گرفتاریاں انتہائی قابل مذمت ہیں جس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔وہ آل اورنگی چنگ چی رکشہ اینڈ سی این جی ایسوسی ایشن کے وفد سے ادارہ نور حق میں بات چیت کر رہے تھے۔ جس نے ایسوسی ایشن کے صدر عمران زیدی اور جنرل سیکرٹری عدنان حسین شاہ کی قیادت میں جماعت اسلامی پبلک ایڈ کمیٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ ٹرانسپورٹرز رہنماؤں نے جماعت اسلامی کی قیادت کو پیر 23 جون کو کراچی پریس کلب پر ہونے والی’’بھوک ہڑتال‘‘ کے حوالے سے بھی آگاہ کیااور کہا کہ ہمیں فاقہ کشی اور ظلم سے نجات دلائی جائے۔اس موقع پر ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی عبدالرحمن فدا بھی موجود تھے، عبدالرحمن فدا نے کہا کہ ریڈ بسوں کے کرایوں میں اضافہ کر کے اور 20 روٹ پر چنگ چی رکشوں کو بند کر کے حکومت ساڑھے 3 کروڑ شہریوں کو عذاب میں مبتلا کر رہی ہے جس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی چنگ چی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی