پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے قائد مسلم لیگ نون کے ساتھ ایران پر امریکی حملے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، قائد مسلم لیگ نون سے مشاورت کے بعد انہوں نے ایرانی صدر کو فون کیا اور ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف کا ایران پر امریکی حملے کے بعد پارٹی قائد میاں نواز شریف سے ہنگامی رابطہ کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے نواز شریف کے ساتھ ایران پر امریکی حملے کے بعد کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، نواز شریف سے مشاورت کے بعد انہوں نے ایرانی صدر کو فون کیا اور ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور وزیراعظم کے درمیان قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا، اس حوالے سے نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کی بلا مشروط سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

قائد مسلم لیگ نون کا کہنا تھا کہ پاکستان جنگ نہیں امن چاہتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا خاتمے ہونا چاہیے، پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لئے اقوام عالم سے رابطے میں ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف نے پارٹی قائد کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان امن کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان کا ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ہر طرح کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پر امریکی حملے نواز شریف کے بعد

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری