‘اسرائیل کو اس کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے’، او آئی سی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حال ہی میں کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
او آئی سے کے 57 اسلامی رکن ممالک کے استنبول میں ہونے والے وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں تنظیم نے زور دیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کو روکا جائے اور اس خطرناک کشیدگی کا خاتمہ کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: امت مسلمہ کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، ملکر مسائل سے نمٹنا ہوگا، اسحاق ڈار کا او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب
او آئی سی نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے جوہری اداروں پر حملوں کے بعد وہ ایک وزارتی رابطہ گروپ قائم کرے گی تاکہ بین الاقوامی اور علاقائی فریقوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ رکھا جا سکے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی جا سکیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تنظیم عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے خلاف روک تھام کے اقدامات کرے اور ‘اسرائیل کو اس کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے’۔
اگرچہ استنبول میں ہونے والے اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں امریکا کے حملوں کا حوالہ شامل نہیں ہے، لیکن او آئی سی نے ایک علیحدہ 13 نکات پر مشتمل قرارداد منظور کی ہے، جس میں اسرائیل اور امریکا دونوں کے ایران کے جوہری اداروں پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تنظیم تہران کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: او آئی سی رابطہ گروپ اجلاس؛ کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے بھارتی ہتھکنڈوں کی مذمت
اس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی ان حملوں کی واضح مذمت کرے اور ان کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے سیکورٹی کونسل کو دے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔
او آئی سی نے اسرائیل سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) میں شامل ہو جائے اور اپنی تمام جوہری سہولیات اور سرگرمیوں کو عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی کی مکمل نگرانی میں لائے۔
تنظیم کے ارکان نے ایران کی اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ اور اپنی سرزمین پر ایسے جرائم کو روکنے کے لیے اس کے حق دفاع کا بھی اعادہ کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
OIC اسرائیل اسلامی ممالک امریکا او آئی سی ایران مشترکہ اعلامیہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل اسلامی ممالک امریکا او ا ئی سی ایران مشترکہ اعلامیہ گیا ہے کہ او آئی سی
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :