خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی وسیع موجودگی طاقت کی علامت نہیں، سپاہ پاسداران انقلاب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں بیرونی حملوں کے باوجود مضبوط اور محفوظ ہیں، ہم پرزور طریقے سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کی مقامی اور پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کو کسی بھی حملے سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی وسیع موجودگی طاقت کی علامت نہیں، بلکہ کمزوری کا پہلو ہے، ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی تعداد، پھیلاؤ اور وسعت کوئی طاقت نہیں بلکہ ان کی کمزوری کو دوگنا کر چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیتیں بیرونی حملوں کے باوجود مضبوط اور محفوظ ہیں، ہم پرزور طریقے سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کی مقامی اور پُرامن جوہری ٹیکنالوجی کو کسی بھی حملے سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ قبل ازیں پریس ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے ایک بیان میں کہا کہ ہفتہ کے روز آپریشن وعدہ صادق 3 کے اٹھارویں مرحلے کو گزشتہ ہفتے کے سب سے کامیاب مراحل میں شمار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مرحلے میں میزائلوں کے انتخاب، اہداف کے تعین، اور میزائل و ڈرونز کے رہنمائی راستوں میں نئی جدتیں متعارف کرائی گئیں، جس کے نتیجے میں حیفہ اور تل ابیب میں 14 اسٹریٹجک فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حیفہ کے مرکزی علاقے میں واقع سیل ٹاور (جہاں مصنوعی ذہانت کی کمپنی اے آئی 12 لیبز اور جنگی صنعتوں سے وابستہ دیگر سافٹ ویئر ادارے موجود ہیں) کو ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والے قدر-ایف میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے مزید کہاکہ حدیرا پاور پلانٹ، حیفہ آئل ریفائنری، اووڈا ایئربیس (سائبر کمانڈ)، کریات گیٹ کے سیمی کنڈکٹر صنعتی زون، اور حیفہ کے رافیل مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے صہیونی حکومت کو خبردار کیا کہ آپریشن کے انیسویں مرحلے کا تسلسل برقرار رہے گا اور یہ ان کے توازن کو درہم برہم کر دے گا۔ ایرانی مسلح افواج (جن کی قیادت پاسداران انقلاب ایرو اسپیس ڈویژن کر رہی ہے) نے اب تک 13 جون سے 19 مراحل مکمل کیے ہیں، جب صہیونی حکومت نے اسلامی جمہوریہ ایران پر بلا اشتعال جارحیت کا آغاز کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاسداران انقلاب کہ ایران کی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔