ملت جعفریہ کی کراچی میں عظیم الشان مردہ باد اسرائیل ریلی، شیعہ سنی علماء و رہنماؤں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے ہاتھوں ناکام ہونے والی اسرائیلی ریاست اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے ایران کو نشانہ بنا رہی ہے، لہٰذا ہم کسی صورت بھی ایران پر ہونے والی جارحیت کو قبول نہیں کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ عالمی دہشتگرد امریکا، اسرائیل و بھارت کی جارحیت کے خلاف ملت جعفریہ پاکستان کی جانب سے کراچی میں نمائش تا تبت سینٹر تک عظیم الشان مردہ باد اسرائیل ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت ملت جعفریہ پاکستان کے رہنماؤں نے کی، ریلی میں اہلیان کراچی نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے خطیب پاکستان علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کا کہنا تھا کہ ایران نے جہاد فی سبیل اللہ کے مفہوم کو عملی جامہ پہنایا، دشمن آسمان سے بات کر رہا تھا تو ایران نے اس کو خلاء سے جواب دیا، دنیا سمجھ رہی تھی سپر پاور امریکا و اسرائیل ہیں، ایران نے ثابت کیا سپر پاور خود اعتمادی و توکل اللہ ہے، ایران نے عالم اسلام کو حوصلہ دیا ہے، مسلم امہ کو مسلم حکمرانوں کو ایک رہنمائی فراہم کی ہے اور ہمت بنائی ہے کہ آئندہ اسلام دشمن طاقتیں اب مدتوں سوچیں گی کہ کسی مسلمان کو اذیت پہنچانے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
شرکاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید حسن ظفر نقوی کا کہنا تھا کہ غزہ کے مظلوموں کا خون رنگ لا رہا ہے، آج عالم اسلام میں اتحاد کے نقارے بج رہے ہیں، اسرائیل کے خلاف ایران کے تباہ کن حملوں نے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، آج کی مردہ باد اسرائیل ریلی اتحاد اسلامی کا مظہر ہوگی، اسرائیل کے ساتھ ساتھ بھارت کو بھی سبق مل گیا کہ جب بات اسلامی سرحدوں کی حفاظت کی آ جائے تو یہ ملت اپنے سارے اختلافات بھلا کر ایک ہو جاتی ہے۔ ریلی سے علامہ ناظر عباس تقوی کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، مسلمان ممالک پر بلاجواز حملے کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں پورے عالم اسلام میں ایک پریشان کن صورتحال اور غم و غصہ پایا جاتا ہے، فلسطین کے بعد لبنان کو نشانہ بنانا، پھر یمن اور اب ایران جیسی خودمختار ریاست پر بلاجواز بمباری کرنا یہ اسرائیل کے جرائم میں شامل ہے، جو عالمی قوانین کے منافی ہے، اب مسلمانوں کے خلاف امریکا نے بھارت کی صورت میں بچہ گود لیا ہے، جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں کبھی پاکستان تو کبھی ایران کے اندر سازشیں کر رہا ہے، حالیہ جنگ کے دوران ایرانی حکومت نے بھارت کے کئی ایجنٹوں کو گرفتار کرکے دنیا پر واضح کیا کہ بھارت کی پشت پناہی پر اسرائیل ہے، ہم پاکستان میں بھارت کی شازشوں کو کامیاب ہونے دیں گے۔
ریلی سے جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان، اسد اللہ بھٹو، علامہ علی رضا مطہری، علامہ محمد حسین رئیسی، علامہ باقر عباس زیدی، علامہ نثار قلندری، علامہ قاضی احمد نورانی، علامہ صادق رضا تقوی، ڈویژنل صدر آئی ایس او کراچی سروش رضا و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے ایران کے احساسات اور جذبات کی قدر کرتے ہوئے ان کی حمایت کا جو اعلان کیا ہے، وہ ہم پاکستانیوں کے سر کو فخر کرنے کے مترادف ہے، اس وقت پوری دنیا کے اندر ایک عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، اگر اقوام متحدہ نے اور عالمی امن کے اداروں نے امریکا اور اسرائیل کو نہیں روکا تو یہ جنگ ان خطوں سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل جائے گی اور اس کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہونگے۔ مقررین نے کہا کہ فلسطین کے ہاتھوں ناکام ہونے والی اسرائیلی ریاست اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے ایران کو نشانہ بنا رہی ہے، لہٰذا ہم کسی صورت بھی ایران پر ہونے والی جارحیت کو قبول نہیں کریں گے۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء ریلی نے امریکی، اسرائیلی اور بھارتی پرچم سمیت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور مودی کے پتلوں کو نذر آتش کرتے ہوئے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خطاب کرتے ہوئے عالم اسلام ہونے والی بھارت کی ایران نے کے خلاف ریلی سے کر رہا رہا ہے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔