خطے کی موجودہ صورتحال، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 June, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (سب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا جس میں ایران، اسرائیل اور امریکا تنازع سمیت دیگر اہم معلاملات زیر غور آئیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کل قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں عسکری اور سول قیادت کے اعلی حکام شرکت کریں گے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازعے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی اور ایران کی حمایت سمیت دیگر اہم امور پر بڑے فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اپنے حالیہ دورہ امریکہ پر شرکا کو اعتماد میں لیں گے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی داخلی اور سرحدی سیکیورٹی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔اجلاس کل دوپہر 12 بجے وزیراعظم ہاوس میں ہوگا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت دیگر شریک ہوں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحملہ کرنیوالے امریکی طیارے کہاں ہیں ، پتہ لگا لیا ، پاسداران انقلاب حملہ کرنیوالے امریکی طیارے کہاں ہیں ، پتہ لگا لیا ، پاسداران انقلاب امریکا نے ایران کو جوہری تنصیبات پر حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی، ایرانی میڈیا کا دعوی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ، ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دیدی ملک ابراراحمدکی پارٹی کیلئے گراں قدرخدمات ہیں جسکی بدولت چیئرمین قائمہ کمیٹی منتخب ہونا اعزازکی بات ہے، چوہدری محمد یسین امریکی حملے کے بعد سفارتکاری کی گنجائش نہیں، ایران کا حق دفاع کے تحت جواب دینے کا اعلان ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کردیا،،تہران نے حملہ کیا تو بھرپور طاقت سے جواب دینگے، امریکا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا اجلاس کل

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ