پاکستان، چین، بنگلا دیش: مشترکہ ترقی کے نئے راستے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی تناظر میں پاکستان، چین اور بنگلا دیش کے مابین سہ فریقی ورکنگ گروپ کا قیام ایک خوش آئند اور تاریخی پیش رفت ہے۔ 19 جون 2025 کو چین کے شہر کنمنگ میں ہونے والا افتتاحی سہ فریقی اجلاس جہاں علاقائی روابط کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، وہیں یہ جنوبی ایشیا میں تعاون، ترقی اور استحکام کی امید افزا علامت بھی ہے۔ اس اجلاس کی میزبانی چین نے کی اور پاکستان و بنگلا دیش کی اعلیٰ سفارتی قیادت کی شرکت نے اس کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ، بنگلا دیش کے قائم مقام سیکرٹری خارجہ روح العالم صدیقی اور چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ نے نہ صرف سیاسی تعاون بلکہ تجارت، ڈیجیٹل معیشت، زراعت، تعلیم، ثقافت، ماحولیات اور سمندری سائنس جیسے شعبوں میں باہمی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت اس وقت اور زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے جب ہم جنوبی ایشیائی خطے کے تاریخی مسائل کو دیکھتے ہیں۔ پاکستان اور بنگلا دیش کے ماضی کے تناؤ کے باوجود حالیہ برسوں میں تعلقات میں مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ کا اپریل 2025 کا ڈھاکا دورہ گزشتہ 15 برسوں میں پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ تھا، جس نے دوطرفہ اعتماد سازی کی فضا کو جنم دیا۔ اسی طرح حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں، بشمول وزیر اعظم شہباز شریف اور بنگلا دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے درمیان عالمی فورموں پر ملاقاتیں اس اعتماد کی مضبوطی کا پتا دیتی ہے۔ اس سہ فریقی ورکنگ گروپ کی تشکیل درحقیقت چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کی اس اسٹرٹیجک سوچ سے جْڑی ہے، جو خطے کو معاشی اعتبار سے مربوط اور باہم منسلک دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان اس وژن میں گوادر پورٹ اور سی پیک کے ذریعے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ بنگلا دیش کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت اسے مشرقی ایشیا کے لیے ایک قدرتی تجارتی دروازہ بناتی ہے۔ ایسے میں اگر یہ سہ فریقی تعاون مؤثر طریقے سے آگے بڑھتا ہے تو نہ صرف یہ ممالک خطے کے اقتصادی توازن کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک متبادل ترقیاتی ماڈل پیش کیا جا سکے گا۔ یہ امر قابل تحسین ہے کہ اجلاس میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق ہوا ہے جو طے شدہ شعبوں میں عملی پیش رفت کو ممکن بنائے گا۔ اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو مستقبل میں سارک جیسی غیر مؤثر علاقائی تنظیموں کے برعکس ایک فعال، عملی اور نتیجہ خیز علاقائی اتحاد کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔ اسی تناظر میں ہمیں ماضی کے کچھ کامیاب علاقائی ماڈلز سے سیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ مثلاً آسیان ، جس نے جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر معاشی و سیاسی ترقی کا نیا باب رقم کیا۔ پاکستان، چین اور بنگلا دیش کا یہ تعاون بھی جنوبی ایشیا میں آسیان جیسا ماڈل تشکیل دے سکتا ہے، بشرطیکہ سیاسی عزم، تسلسل اور اعتماد سازی کو برقرار رکھا جائے۔ چین، پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان یہ سہ فریقی تعاون صرف ایک سفارتی اجلاس نہیں بلکہ علاقائی ہم آہنگی، باہمی ترقی اور مشترکہ مستقبل کی بنیاد ہے۔ حکومت ِ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس موقع کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے اور اس میکانزم کو صرف دستاویزات کی حد تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی اشتراک اور منصوبہ بندی کا مؤثر ذریعہ بنائے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہوگا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور عوامی فلاح کے نئے دروازے کھولنے کا سبب بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور بنگلا دیش کے جنوبی ایشیا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔