ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے قابل مذمت ہیں، پاکستانی مندوب عاصم افتخار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جون2025ء)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستانی مستقل مندوب، عاصم افتخار نے پاکستان کے اصولی موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان یواین چارٹر کے مطابق عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتا رہے گا۔عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کونسل کے ارکان نے کشیدگی کے بڑھنے کی صورت میں خطرات سے خبردار کیا تھا، تاہم امن کی کوششوں اور سفارتکاری کو نظرانداز کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو فروغ دینے کی حمایت کی ہے۔عاصم افتخار نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایران کے حق دفاع کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔(جاری ہے)
پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر شکریہ ادا کرتاہوں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت، فوری اور غیر مشروط جنگ بندی اور ایران کے حق دفاع کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی حفاظتی تدابیر کو نظرانداز کیا گیا جو عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ اس تنازعہ کا حل مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے نکالا جائے۔عاصم افتخار نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی نائب وزیراعظم امن کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں اور وہ خطے کے دیگر ممالک کے سربراہان سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ اس بحران کو حل کیا جا سکے۔عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان، سلامتی کونسل کا رکن ہونے کے ناطے اپنے تمام فرائض ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہا ہے اور پاکستان کی خواہش ہے کہ تنازع کا حل صرف اور صرف مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن کی بحالی کے لیے بھرپور کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بحران میں امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور اس بات کا پختہ عزم رکھتا ہے کہ اس کے اقدام عالمی قوانین کے مطابق ہوں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔
جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔
جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔