روس، چین اور پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے، جس میں روس، چین اور پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد پیش کرنے کی تجویز دی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کو ’پہلے سے غیر مستحکم خطے میں خطرناک اضافہ‘ قرار دیتے ہوئے شدید خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک اور تباہ کن انتقامی سلسلے کے دہانے پر کھڑے ہیں، جو خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ وہ بارہا مشرق وسطیٰ میں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی کی مذمت کر چکے ہیں کیونکہ خطے کے عوام مزید تباہی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ’لیکن بدقسمتی سے ہم ایک نہ ختم ہونے والے انتقام در انتقام کے گڑھے کی طرف جا رہے ہیں۔‘
انتونیو گوتریس نے فوری سفارت کاری، عام شہریوں کے تحفظ، اور سمندری راستوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ’ہمیں فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ لڑائی رکے اور ایران کے جوہری پروگرام پر سنجیدہ اور مسلسل مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔‘
مزید پڑھیں:
ابھی یہ واضح نہیں کہ مذکورہ قرارداد پر کب رائے شماری ہوگی، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق، روس، چین اور پاکستان کی جانب سے قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک کو بھیجا گیا ہے اور ان سے پیر کی شام تک اپنی رائے طلب کی گئی ہے۔
قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ووٹوں کی حمایت درکار ہے، بشرطیکہ 5 مستقل اراکین یعنی امریکا، فرانس، برطانیہ، روس اور چین میں سے کوئی بھی ویٹو نہ کردے۔
ذرائع کے مطابق، امریکا ممکنہ طور پر اس قرارداد کی مخالفت کرے گا، کیونکہ مسودے میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے، اگرچہ متن میں امریکا یا اسرائیل کا نام واضح طور پر شامل نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ انتونیو گوتریس پاکستان جنگ بندی چین روس سلامتی کونسل مشرق وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ انتونیو گوتریس پاکستان چین سلامتی کونسل سلامتی کونسل اقوام متحدہ
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔