گزشتہ ہفتے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر کسی قسم کا نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جا رہا، ساتھ ہی انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ سال الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی کے نفاذ کی تجویز کو بھی کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا گیا۔

پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کی توجہ ہائبرڈ گاڑیوں کی جانب بڑھ رہی ہے، ماہرین ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو مستقبل کی سمت قرار دے رہے ہیں، ایسے میں ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ نہ صرف مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، بلکہ اس سے مقامی سطح پر ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت اور پیداوار میں بہتری کی امید بھی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا موٹرز پاکستان میں اپنی پہلی الیکٹرک گاڑی کب لانچ کرے گا؟

سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات ہائبرڈ گاڑیوں کی مقبولیت میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے اور کیا پاکستان میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی واقعی ایک مضبوط مستقبل رکھتی ہے؟

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو موبائل کنسلٹنٹ اور ایکسپرٹ شفیق احمد شیخ نے بتایا کہ حکومت نے بجٹ 26-2025 میں ہائبرڈ گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ آٹو سیکٹر میں جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔

حکومتی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھی عالمی رجحانات کے مطابق ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، جیسے جیسے دنیا ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے، پاکستان بھی ہائبرڈ اور الیکٹرک وہیکل کی پالیسیز پر کام کر رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر، ماحول دوست اور کم قیمت ٹرانسپورٹ کے ذرائع میسر آ سکیں۔‘

مزید پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کیوں، کونسی زیادہ بک رہی ہیں؟

شفیق احمد شیخ کے مطابق اس وقت ملک میں گاڑیوں کی 70 سے 80 فیصد فروخت قسطوں پر ہوتی ہے، اس لیے اگر ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی قسطوں پر فراہمی ممکن ہو جائے تو یہ ٹیکنالوجی عام شہری کی پہنچ میں آ سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ہائبرڈ گاڑیاں زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، لیکن چند مقامی مینوفیکچررز نے ان کی پیداوار کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ’الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کا مستقبل روشن ہے کیونکہ یہ نہ صرف ایندھن کی بچت کرتی ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہیں، ان گاڑیوں کی قیمت، فیچرز اور کوالٹی کے لحاظ سے صارفین کو طویل المدتی فائدہ ہوگا۔‘

پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری شوکت قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فیول کار مافیا کے خلاف ایک طویل اور پیچیدہ جنگ جاری ہے۔ اس مافیا کا اثر و رسوخ اتنا گہرا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو پاتا، حتیٰ کہ متعلقہ وزارتیں اور سیکریٹری بھی اکثر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بریتھ پاکستان: ہماری گاڑیوں سے کاربن اخراج میں 80 ملین ٹن کمی ہوئی، بی وائی ڈی

انہوں نے بتایا کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اور مضبوط الیکٹرک وہیکل پالیسی سامنے نہیں آئی ہے، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح، جہاں حکومتیں خود اس تبدیلی کی قیادت کرتی ہیں، پاکستان میں ایسی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، یہاں سب کچھ جمود کا شکار ہے۔

شوکت قریشی نے بتایا کہ ان ہی حالات کی وجہ سے معروف چینی کمپنی بی وائے ڈی بھی مشکلات کا شکار ہے، ان کے موجودہ ماڈلز عام پاکستانی عوام کی ضروریات یا قوتِ خرید سے ہم آہنگ نہیں ہیں، مزید برآں، پاکستان میں ان کی لابی بھی اتنی مضبوط نہیں کہ وہ الیکٹرک وہیکل کو مقبول بنانے میں کوئی بڑا کردار ادا کر سکے۔

’یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ بی وائے ڈی کی الیکٹرک بسیں اور دیگر گاڑیاں وہی انجام نہ دیکھیں جو ماضی میں کئی اچھے منصوبوں کا ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ BYD اس طویل لڑائی میں کب تک خود کو برقرار رکھ پاتا ہے، اور کیا وہ حالات کا رخ موڑنے میں کامیاب ہو سکے گا۔‘

مزید پڑھیں: شاندار ہائبرڈ گاڑی اوماڈا سی 7 پاکستان میں متعارف ہونے کے لیے تیار

آل پاکستان موٹر کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایم ایچ اکبر شہزاد کے مطابق حکومت کی جانب سے ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے، اس فیصلے کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں نہ تو کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی اضافہ، یعنی گاڑیوں کی قیمتیں وہیں برقرار رہیں گی، جہاں بجٹ سے پہلے تھیں۔ خاص طور پر وہ ہائبرڈ گاڑیاں جو پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل ہو رہی ہیں۔

موٹر کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے سربراہ کے مطابق یہ فیصلہ اگرچہ عوام کے لیے فوری ریلیف تو نہیں لایا، لیکن اس سے یہ عندیہ ضرور ملا ہے کہ حکومت مستقبل میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ میں رکاوٹیں نہیں ڈالنا چاہتی۔

’۔۔۔ملک میں ہائبرڈ گاڑیوں کا مستقبل تبھی روشن ہو سکتا ہے جب حکومت ایک جامع آٹو پالیسی کے تحت مقامی پیداوار کو فروغ دے، عالمی کمپنیوں کو سہولت دے، اور ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مخصوص مراعات کا اعلان کرے، جیسا کہ دیگر ترقی پذیر ممالک کر رہے ہیں، بصورت دیگر، یہ فیصلہ صرف وقتی اطمینان تک محدود رہے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آل پاکستان موٹر کار ڈیلر ایسوسی ایشن الیکٹرک بسیں الیکٹرک وہیکل ایم ایچ اکبر شہزاد بی وائے ڈی شوکت قریشی ہائبرڈ ٹیکنالوجی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکٹرک بسیں الیکٹرک وہیکل ایم ایچ اکبر شہزاد بی وائے ڈی شوکت قریشی ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں ہائبرڈ گاڑیوں ہائبرڈ ٹیکنالوجی ہائبرڈ گاڑیوں پر الیکٹرک گاڑیوں الیکٹرک وہیکل ایسوسی ایشن پاکستان میں نے بتایا کہ گاڑیوں کی کے مطابق کی جانب کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ