پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑی خبر، حکومت نے اہم فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
گزشتہ ہفتے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر کسی قسم کا نیا ٹیکس نافذ نہیں کیا جا رہا، ساتھ ہی انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ سال الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی کے نفاذ کی تجویز کو بھی کثرتِ رائے سے مسترد کر دیا گیا۔
پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں کے دوران گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے صارفین کی توجہ ہائبرڈ گاڑیوں کی جانب بڑھ رہی ہے، ماہرین ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو مستقبل کی سمت قرار دے رہے ہیں، ایسے میں ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ نہ صرف مارکیٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، بلکہ اس سے مقامی سطح پر ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت اور پیداوار میں بہتری کی امید بھی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا موٹرز پاکستان میں اپنی پہلی الیکٹرک گاڑی کب لانچ کرے گا؟
سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات ہائبرڈ گاڑیوں کی مقبولیت میں مزید اضافے کا باعث بنیں گے اور کیا پاکستان میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی واقعی ایک مضبوط مستقبل رکھتی ہے؟
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو موبائل کنسلٹنٹ اور ایکسپرٹ شفیق احمد شیخ نے بتایا کہ حکومت نے بجٹ 26-2025 میں ہائبرڈ گاڑیوں پر مجوزہ ٹیکس کو مسترد کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ آٹو سیکٹر میں جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہتی ہے۔
حکومتی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھی عالمی رجحانات کے مطابق ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، جیسے جیسے دنیا ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہی ہے، پاکستان بھی ہائبرڈ اور الیکٹرک وہیکل کی پالیسیز پر کام کر رہا ہے تاکہ عوام کو بہتر، ماحول دوست اور کم قیمت ٹرانسپورٹ کے ذرائع میسر آ سکیں۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ کیوں، کونسی زیادہ بک رہی ہیں؟
شفیق احمد شیخ کے مطابق اس وقت ملک میں گاڑیوں کی 70 سے 80 فیصد فروخت قسطوں پر ہوتی ہے، اس لیے اگر ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی قسطوں پر فراہمی ممکن ہو جائے تو یہ ٹیکنالوجی عام شہری کی پہنچ میں آ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ہائبرڈ گاڑیاں زیادہ تر درآمد کی جاتی ہیں، لیکن چند مقامی مینوفیکچررز نے ان کی پیداوار کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ’الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کا مستقبل روشن ہے کیونکہ یہ نہ صرف ایندھن کی بچت کرتی ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی بہتر ہیں، ان گاڑیوں کی قیمت، فیچرز اور کوالٹی کے لحاظ سے صارفین کو طویل المدتی فائدہ ہوگا۔‘
پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری شوکت قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں فیول کار مافیا کے خلاف ایک طویل اور پیچیدہ جنگ جاری ہے۔ اس مافیا کا اثر و رسوخ اتنا گہرا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو پاتا، حتیٰ کہ متعلقہ وزارتیں اور سیکریٹری بھی اکثر بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: بریتھ پاکستان: ہماری گاڑیوں سے کاربن اخراج میں 80 ملین ٹن کمی ہوئی، بی وائی ڈی
انہوں نے بتایا کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اور مضبوط الیکٹرک وہیکل پالیسی سامنے نہیں آئی ہے، بھارت اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح، جہاں حکومتیں خود اس تبدیلی کی قیادت کرتی ہیں، پاکستان میں ایسی کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی، یہاں سب کچھ جمود کا شکار ہے۔
شوکت قریشی نے بتایا کہ ان ہی حالات کی وجہ سے معروف چینی کمپنی بی وائے ڈی بھی مشکلات کا شکار ہے، ان کے موجودہ ماڈلز عام پاکستانی عوام کی ضروریات یا قوتِ خرید سے ہم آہنگ نہیں ہیں، مزید برآں، پاکستان میں ان کی لابی بھی اتنی مضبوط نہیں کہ وہ الیکٹرک وہیکل کو مقبول بنانے میں کوئی بڑا کردار ادا کر سکے۔
’یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ بی وائے ڈی کی الیکٹرک بسیں اور دیگر گاڑیاں وہی انجام نہ دیکھیں جو ماضی میں کئی اچھے منصوبوں کا ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ BYD اس طویل لڑائی میں کب تک خود کو برقرار رکھ پاتا ہے، اور کیا وہ حالات کا رخ موڑنے میں کامیاب ہو سکے گا۔‘
مزید پڑھیں: شاندار ہائبرڈ گاڑی اوماڈا سی 7 پاکستان میں متعارف ہونے کے لیے تیار
آل پاکستان موٹر کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایم ایچ اکبر شہزاد کے مطابق حکومت کی جانب سے ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی تجویز مسترد کر دی گئی ہے، اس فیصلے کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں نہ تو کوئی کمی آئے گی اور نہ ہی اضافہ، یعنی گاڑیوں کی قیمتیں وہیں برقرار رہیں گی، جہاں بجٹ سے پہلے تھیں۔ خاص طور پر وہ ہائبرڈ گاڑیاں جو پاکستان میں مقامی طور پر اسمبل ہو رہی ہیں۔
موٹر کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے سربراہ کے مطابق یہ فیصلہ اگرچہ عوام کے لیے فوری ریلیف تو نہیں لایا، لیکن اس سے یہ عندیہ ضرور ملا ہے کہ حکومت مستقبل میں ہائبرڈ ٹیکنالوجی کے فروغ کی راہ میں رکاوٹیں نہیں ڈالنا چاہتی۔
’۔۔۔ملک میں ہائبرڈ گاڑیوں کا مستقبل تبھی روشن ہو سکتا ہے جب حکومت ایک جامع آٹو پالیسی کے تحت مقامی پیداوار کو فروغ دے، عالمی کمپنیوں کو سہولت دے، اور ہائبرڈ و الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مخصوص مراعات کا اعلان کرے، جیسا کہ دیگر ترقی پذیر ممالک کر رہے ہیں، بصورت دیگر، یہ فیصلہ صرف وقتی اطمینان تک محدود رہے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آل پاکستان موٹر کار ڈیلر ایسوسی ایشن الیکٹرک بسیں الیکٹرک وہیکل ایم ایچ اکبر شہزاد بی وائے ڈی شوکت قریشی ہائبرڈ ٹیکنالوجی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکٹرک بسیں الیکٹرک وہیکل ایم ایچ اکبر شہزاد بی وائے ڈی شوکت قریشی ہائبرڈ ٹیکنالوجی میں ہائبرڈ گاڑیوں ہائبرڈ ٹیکنالوجی ہائبرڈ گاڑیوں پر الیکٹرک گاڑیوں الیکٹرک وہیکل ایسوسی ایشن پاکستان میں نے بتایا کہ گاڑیوں کی کے مطابق کی جانب کے لیے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں