ایران نے اچھی طرح اپنے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کیا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیز فائر ہونا خوش آئند بات ہے، ایران نے نہایت جارحانہ انداز میں اپنا دفاع کیا۔ ایران اسرائیل جنگ بندی سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کا اہم بیان سامنے آ گیا۔سلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیز فائر ہونا خوش آئند بات ہے، ایران نے اچھی طرح اپنے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کیا، ایران نے نہایت جارحانہ انداز میں اپنا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عوام اور ایرانی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مسلمانوں کو دو بار فتح نصیب ہوئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو بھارت اور ایران کو اسرائیل سے فتح نصیب ہوئی، جنگ بندی اس بات کا ثبوت ہے اسرائیل کے دعوے بے بنیاد تھے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ یہ 2 جڑواں فتوحات عالم اسلام کی کامیابی کا ثبوت ہے، بس اب دعا ہے اللہ غزہ کے مسلمانوں پر رحم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔