ایران اسرائیل جنگ بندی سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کا اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ایران اسرائیل جنگ بندی سے متعلق وزیر دفاع خواجہ آصف کا اہم بیان سامنے آگیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیز فائر ہونا خوش آئند بات ہے، ایران نے اچھی طرح اپنے سے بڑے دشمن کا مقابلہ کیا، ایران نے نہایت جارحانہ انداز میں اپنا دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی عوام اور ایرانی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مسلمانوں کو دو بار فتح نصیب ہوئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو بھارت اور ایران کو اسرائیل سے فتح نصیب ہوئی، جنگ بندی اس بات کا ثبوت ہے اسرائیل کے دعوے بنیاد تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ 2 جڑواں فتوحات عالم اسلام کی کامیابی کا ثبوت ہے، بس اب دعا ہے اللہ غزہ کے مسلمانوں پر رحم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔