پاکستان کا امریکی صدر کو نوبل انعام کی نامزدگی پر خط لکھنا انتہائی شرمناک ہے
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) پاکستان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نوبل انعام کے لیے نامزدگی کا نوبل کمیٹی کوخط لکھنا انتہائی شرمناک ہے۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ وہی صدر ٹرمپ نہیں جو اسرائیل کو غزہ پر مستقل وحشیانہ بمباری کے لیے نہ صرف اسلحہ، بارود و بم فراہم کر رہا ہے بلکہ ناجائز صہیونی ریاست کے توسیعی منصوبہ یعنی گریٹر اسرائیل کے قیام کے حوالے سے اس کی مکمل معاونت بھی کر رہا ہے۔ پھر یہ کہ اِس سنگ دل انسان نے اسرائیل کے لبنان اور شام پر حملوں میں مکمل معاونت کی اور 22 جون کی صبح برادر ملک ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ بھی کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا اسلام اور مسلمانوں کے دشمن، اسرائیل کی فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم میں اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والے اِس شخص کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرنا عالمِ اسلام سے غداری اور بغاوت کے مترادف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان اور مقتدر حلقے نہ صرف اس نامزدگی کو فی الفور واپس لیں بلکہ دنیا کے کم و بیش دو ارب مسلمانوں کی دل آزاری کرنے پر معذرت بھی کریں۔ برادر ملک ایران پر حملہ کرنے پر امریکہ کا مکمل سفارتی، سیاسی و معاشی بائیکاٹ کیا جائے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسرائیل، امریکہ اور بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحادِ ثلاثہ کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مسلم ممالک کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے جس میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کی کھل کر مذمت کی جائے اور حملہ آوروں کو عملی طور پر دندان شکن جواب دینے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔