data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تل ابیب: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کے جواب میں شدید میزائل کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کا ایک اہم پاور پلانٹ براہِ راست نشانہ بنا۔ اس حملے سے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ عوام نے گھنٹوں پناہ گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو کر خوف و ہراس کی کیفیت میں وقت گزارا۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ ایک میزائل ملک کے اسٹریٹجک انفرااسٹرکچر کے قریب آ کر گرا، جس سے پاور سپلائی میں شدید خلل پیدا ہوا۔ نہاریا، حیفا، میعیلیا اور مغربی بیت المقدس سمیت متعدد شہروں میں فضا میں سائرن گونج اٹھے، جس کے بعد شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔

رپورٹس کے مطابق تل ابیب کی حدود میں آسمان پر ایرانی میزائلوں کو پرواز کرتے دیکھا گیا، جس کے فوری بعد زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، اب تک کم از کم چار مختلف مقامات پر میزائل گرنے کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں اشدود اور مغربی بیت المقدس شامل ہیں۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے فوجی سنسر شپ عائد کی گئی ہے، جس کے تحت متاثرہ علاقوں یا تنصیبات کی تفصیلات جاری کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے میڈیا پر حملے کی ویڈیوز یا مقامی نقصانات کی تصاویر سامنے نہیں آ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی کی تھی، جس کے بعد سے اب تک ایران کی جانب سے تقریباً 450 بیلسٹک میزائل داغے جا چکے ہیں۔ یہ حملہ ایران کی اب تک کی سب سے شدید جوابی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا