امریکا کیخلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ایرانی آرمی چیف کااعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
تہران: ایران کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی نے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے مفادات پر حملے کے لئے ایرانی فوج کے ہاتھ کھل گئے ہیں۔
ایک بیان میں ایرانی چیف آف آرمی سٹاف نے کہا کہ
امریکا جنگ میں براہ راست اور واضح شریک ہوچکا، اب امریکا کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دریں اثناء ایرانی فوج کے ترجمان جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکی حملے ایران کیلئے اہداف میں اضافے کا سبب بنے ہیں، خطے میں اثرات محسوس ہوں گے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ نے جنگ شروع کی، ختم ہم کریں گے۔
یاد رہے کہ امریکا نے آپریشن ’مڈنائٹ ہیمر‘ کے عنوان سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا، جس میں 125 فورتھ اور ففتھ جنریشن طیاروں اور سب میرین نے حصہ لیا تھا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی نیوکلیئر سائٹس پر حملے کیے ہیں۔
بریفنگ کے دوران امریکی چیئرمین جوائنٹس چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ دھوکا دینے کے لیے بہت سارے جنگی طیارے امریکا سے اڑائے گئے، ایران پر حملہ صرف 7 بی 2 بمبار طیاروں نے کیا، ایک درجن سے زیادہ 30 ہزار پونڈز والے فردو اور نطنز جوہری تنصیبات پر گرائے گئے، اصفہان کے جوہری مرکز کو ٹوما ہاک میزائلوں سے ہدف بنایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہ امریکا کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔