ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہیں، روسی صدر پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے خلاف حالیہ حملوں کو بے بنیاد جارحیت قرار دیتے ہوئے ایران کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
روسی صدر پیوٹن نے یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ کریملن میں ملاقات کے آغاز پر دیا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
صدرپیوٹن نے کہا کہ ایران پر حالیہ جارحیت کا کوئی جواز نہیں، روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
عباس عراقچی نے امریکا کے حملوں کی مذمت پر روس کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ روس تاریخ کے درست رخ پر کھڑا ہے۔
انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پزشکین کی طرف سے پیوٹن کو نیک تمنائیں بھی پہنچائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل ایران جنگ ولادیمیر پیوٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایران جنگ ولادیمیر پیوٹن
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔